پی ٹی آئی احتجاج؛ پارلیمنٹ ہاؤس کے دروازے بند، ارکان اسمبلی کو باہر جانے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جبکہ مرکزی بھی گیٹ بند کر دیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمنٹ گیٹ کے باہر بکتر بند گاڑیاں پہنچا دی گئیں جبکہ اسلام آباد ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہوگئی، ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا۔
پولیس کی جانب سے کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس جانے نہیں دیا جا رہا۔ پولیس نے ممبر اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو ریڈیو پاکستان چوک پر روک لیا۔
پی ٹی رہنماء احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ تک پہنچ گئے۔ گیٹ بند ہونے کے باعث پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز باہر نہ نکل سکے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس مظاہرین کی قیادت کررہے ہیں جب کہ مظاہرین میں محمود خان اچکزئی اور بیرسٹرگوہر بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مرکزی گیٹ سے کیبنٹ گیٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری سے ملاقات کی اور تحفظات سے آگاہ کیا، ملاقات میں بیرسٹر گوہر بھی موجود تھے، اپوزیشن لیڈر نے پارلیمنٹیرینز کو باہر نکلنے سے روکنے پر احتجاج کیا۔
اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے کے اندر ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دے دیا اور ایوان صدر کو جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی, اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی بھی دھرنے میں بیٹھ گئے۔
کئی گھنٹوں بعد بھی یہ صورتحال ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ دھرنے میں موجود ہیں اور پارلیمنٹ کے تمام دروازے تاحال نہیں کھولے گئے، دروازے بند ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر موجود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پارلیمنٹ کے اندر نہ پہنچ سکے، پارلیمنٹ ہاؤس میں لائٹس بند کردی گئیں۔
پی ٹی آئی قیادت اندھیرے کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر آکر بیٹھ گئی اور عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کرتی رہی۔
معاملے کو الجھائے بغیر حل کی طرف بڑھنا چاہیے، اچکزئی
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنا پُرامن ہوگا، بانی پی ٹی آئی سے ان کے ذاتی معالج اور فیملی کی ملاقات کروائی جائے، پہلے مجھے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے، ملک میں اچھے ڈاکٹرز موجود ہیں ان کا علاج کروانا چاہتے ہیں، اس معاملے کو الجھائے بغیر حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پارلیمنٹ ہاؤس کے دیا گیا کی طرف
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔