کراچی: جوڈیشل کمیشن کے گل پلازا کے دورے اور سوالات کی اندرونی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
سانحۂ گل پلازا کے محرکات جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے گل پلازا کا دورہ کیا، اس موقع پر ڈی سی ساؤتھ، ایس ایس پی سٹی، کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام نے بریفنگ دی۔
جوڈیشل کمیشن نے حکام سے پوچھا کہ جب آگ لگی اس وقت گل پلازا کے کتنے دروازے کھلے تھے؟ حکام نے بتایا کہ گل پلازا کے کل 16 دروازے تھے، جب آگ لگی اس وقت 2 سے 3 گیٹ کھلے تھے۔
جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ چھت پر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ حکام نے بتایا کہ عمارت مخدوش ہے، سیڑھیاں گر چکی ہیں، اوپر کی منزلوں تک رسائی ممکن نہیں۔
کمیشن نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو پبلک نوٹس اخبارات میں شائع کروانے کی ہدایت کی
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ جس دکان سے آگ لگی اس کی نشاندہی کی جائے۔
جوڈیشل کمیشن کے حکام نے کمیشن کو سب سے پہلے عمارت کے فرنٹ سائیڈ اور اندرونی حصوں کا معائنہ کروایا، موبائل ٹارچ جلا کر حکام نے عمارت کے گراؤنڈ فلور کے اندرونی حصوں کا دورہ کروایا۔
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ جس مقام سے بڑی تعداد میں باقیات ملی تھیں وہ کہاں ہے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ گل پلازا میں موجود افراد کو کس راستے سے باہر نکالا گیا؟ ملبہ کس چیز کا ہے؟ کیا یہ ملبہ توڑ پھوڑ کا نتیجہ ہے؟
حکام نے کہا کہ ملبہ آتشزدگی کے نتیجے میں گرا، ہم نے کسی چیز کو نہیں چھیڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن گل پلازا کے حکام نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔