Jang News:
2026-06-02@22:08:58 GMT
پنجاب: لاہور سمیت مختلف شہروں سے 26 دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
لاہور سمیت پنجاب بھر کے مختلف شہروں سے 26 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
لاہور سے جاری ہونے والے بیان میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ حکام نے کہا ہے کہ لاہور سے القاعدہ کے 1، سرگودھا سے فتنہ الخوارج کے 4 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق علاقہ غیر سے ہے، جن کے قبضے سے دھماکا خیز مواد، ای آئی ڈی بم، 3 ڈیٹونیٹر برآمد کیے گئے ہیں۔
گرفتار دہشت گردوں میں عرفان، ضامن علی، مجاہد علی، فیصل، شیراز، نعمت اللّٰہ، اسامہ، غلام یاسین، یاسر، عمران و دیگر شامل ہیں۔
سی ٹی ڈی حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ حراست میں لیے گئے دہشت گرد مختلف مقامات پر کارروائی کرنا چاہتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔