ناجائز تعلقات کو چھپانے کیلیے سفاک ماں کا اپنے دو بچوں کا بیدردی سے قتل؛ ہولناک کہانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بھارتی ریاست پنجاب میں ہونے والی قتل کی ایک ہولناک واردات نے پورے علاقے میں خوف و ہراس اور اضطراب میں مبتلا کرکے رکھ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع بتھنڈا میں ایک خاتون کو اپنے دو بچوں کو زہر دیکر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
سفاک ماں نے اپنی 8 سالہ بیٹی اور 6 سالہ بیٹے کو کھانے میں چوہے مار دوا ملا کر کھلایا جس سے دونوں پُراسرار حالت میں انتقال کرگئے تھے۔
دونوں بچوں کی اچانک اموات پر اہلِ علاقہ کو شُبہ ہوا اور انھوں نے ہفتے کی صبح مقامی تھانے میں مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
جس پر پولیس افسر منوج کمار نے بالآخر قتل کی اس دل دہلا دینے والے کیس کو حل کرلیا۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمہ کے ایک شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جس سے بچے واقف ہوچکے تھے اور خاتون اسے چھپانا چاہتی تھی۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا اس سفاکانہ قتل میں ملزمہ کی بہن اور گاؤں کا ایک شخص لکھی سنگھ بھی شریک تھا۔
پولیس نے جسّی کور اور اس کی بہن موٹو کور کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔