بھارتی ریاست پنجاب میں ہونے والی قتل کی ایک ہولناک واردات نے پورے علاقے میں خوف و ہراس اور اضطراب میں مبتلا کرکے رکھ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع بتھنڈا میں ایک خاتون کو اپنے دو بچوں کو زہر دیکر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

سفاک ماں نے اپنی 8 سالہ بیٹی اور 6 سالہ بیٹے کو کھانے میں چوہے مار دوا ملا کر کھلایا جس سے دونوں پُراسرار حالت میں انتقال کرگئے تھے۔

دونوں بچوں کی اچانک اموات پر اہلِ علاقہ کو شُبہ ہوا اور انھوں نے ہفتے کی صبح مقامی تھانے میں مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

جس پر پولیس افسر منوج کمار نے بالآخر قتل کی اس دل دہلا دینے والے کیس کو حل کرلیا۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمہ کے ایک شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جس سے بچے واقف ہوچکے تھے اور خاتون اسے چھپانا چاہتی تھی۔

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا اس سفاکانہ قتل میں ملزمہ کی بہن اور گاؤں کا ایک شخص لکھی سنگھ بھی شریک تھا۔

پولیس نے جسّی کور اور اس کی بہن موٹو کور کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟