افغان سرزمین سے دہشتگردی ناقابل قبول ہے، طالبان اپنی ذمہ داری پوری کریں، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
نیویارک:
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے افغان سرزمین پر سرگرم دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ حالیہ دہشتگرد حملوں میں 80 سے زائد بے گناہ پاکستانی جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ان واقعات کی منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہونے کے شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عناصر مسلسل پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ افغانستان کی عبوری حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں افغانستان میں جاری انسانی بحران، معاشی بدحالی اور بالخصوص خواتین کے حقوق پر عائد پابندیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام کو بنیادی حقوق اور سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔
اجلاس کے دوران پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ سرحد پار دہشتگردی نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے، اور اس کے تدارک کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کے لیے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔