ہمارے یہاں بعض طلبا رپورتاژکو روداد، روزنامچہ (ڈائری) یادداشت نویسی اور نوٹ بک کے ہم معنی سمجھتے ہیں جوکہ غلط تصور ہے۔ رپورتاژ فنی اور علمی لحاظ سے ایک علیحدہ صنف ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پہلے ان چند اہم اصلاحات کے مفہوم کو سمجھ لیا جائے تاکہ غلط فہمی دور ہو سکے۔ آئیے! پہلے ہم ان اصلاحات کا جائزہ لیتے ہیں۔
روداد : کسی کانفرنس، سیمینار، جلسے اور واقعات کی ایسی تحریری رپورٹ ہوتی ہے جس میں تقریب اور واقعات کی تمام تفصیلات میں تعارف، آغاز اور دیگر انجام دیے گئے امورکو ترتیب وار بیان کیا جاتا ہے۔
اس میں واقعات کو ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر بیان نہیں کیا جاتا بلکہ غیر جانب داری کے ساتھ من و عن کے ساتھ بیان کر دیا جاتا ہے یعنی یہ سادہ رپورٹ ہوتی ہے جس میں آنکھوں دیکھا حال سچائی کے ساتھ اس طرح بیان کر دیا جاتا ہے کہ قاری کے سامنے اس کی پوری تصویر نگاہ کے سامنے آ جاتی ہے۔
اس میں ادبی رنگ بہت کم ہوتا ہے، البتہ ربط کا خیال لازمی رکھا جاتا ہے۔ روزنامچہ (ڈائری)، واقعات، خیالات، احساسات اور تجربات کو تاریخ وار لکھنے کا ایک مستقبل ریکارڈ رکھنے کے عمل کو روزنامچہ (ڈائری) کا نام دیا جاتا ہے۔
سوانح عمری میں لکھنے والا اپنی زندگی سے متعلق واقعات کا اندراج کرتا ہے جب کہ ڈائری میں لکھنے والے کو سب کچھ لکھنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ ڈائری ذاتی نوعیت کی چیز ہوتی ہے ، اس لیے اسے لکھنے والا اپنے ذاتی خیالات کو بلاخوف و خطر لکھتا ہے۔
اس کا قلم آزادی اور بے باکی کے ساتھ چلتا ہے، اس میں عموماً روزمرہ کی تفصیلات تحریر میں لائی جاتی ہیں، اس میں لکھنے والا اپنے دکھ، الجھنوں اور پریشانیوں کا برملا اظہارکرتا ہے۔
اس سے لکھنے والے کے ذہنی تناؤ میں کمی واقع ہوتی ہے جو اس کے ذہنی سکون کا باعث بن جاتی ہے۔ ڈائری میں بعض واقعات تاریخی نوعیت کے ہوتے ہیں جو وقت کے گواہ بن جاتے ہیں، اس طرح ڈائری کی حیثیت تاریخی نوعیت کی حامل بن جاتی ہے، تاہم ڈائری کسی بھی نوعیت کی ہو ریکارڈ محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
یادداشت:- اپنے ذاتی تجربات، مشاہدات کے اہم اصولوں، اہم واقعات اور یادگار لمحات کو مستقل محفوظ رکھنے اور انھیں قلم بند کرنے کا عمل یادداشت نویسی کہلاتا ہے یعنی اس میں اپنی زندگی کے صرف مخصوص اور انتہائی اہم واقعات، مشاہدات اور تجربات کو تحریر میں لایا جاتا ہے۔
نوٹ بک:- اسے رائٹنگ پیڈ بھی کہتے ہیں، یہ ایک کاپی کے صفحات کا مجموعہ ہے جس میں ضروری ہدایات، رواں خیالات بالخصوص ضروری باتوں کو تحریر میں لایا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ رپورتاژ کیا ہے؟ رپورتاژ ایک طرح کی روداد ہی ہے، بس اس میں علمی اور فنی حوالے سے ادبی چاشنی کے دخل کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگر روداد میں ادبی چاشنی نہیں تو وہ محض روداد ہے۔
یعنی روداد کو ادبی اسلوب میں پیش کرنے کا نام رپورتاژ ہے۔ اس میں ادیب کسی واقعے کو جو سماجی، تہذیبی اور سیاسی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، ان کو اپنا موضوع بناتا ہے۔
یہ ایسی صنف ہے جس میں خارجی اور داخلی دونوں کیفیات پائی جاتی ہیں، تاہم داخلی کیفیات کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے، یعنی اس میں مصنف سفرنامہ کی طرح محل وقوع پر سارا زور صرف نہیں کرتا بلکہ اس کا ذکر ثانوی انداز میں کرتا ہے۔
اس کا سارا زور اس کیفیت کو ابھارنا ہوتا ہے جو اس کی داخلی کیفیت محسوس کرتی ہے، اس لحاظ سے رپورتاژ کا مزاج خارجی سے کہیں زیادہ داخلیت پر استوار ہوتا ہے تاکہ جذبات کی ترجمانی ہو سکے۔
مختصراً یہ کہ کوئی ادیب روداد کو ادبی اسلوب میں اپنے شخصی تاثرات شامل کرکے دلچسپ بیان میں قارئین کے دل و دماغ میں اتارے اس ہنر کو رپورتاژ کا نام دیا جاتا ہے۔
رپورتاژ کا بنیادی نقطہ یہی ہے کہ اس میں مصنف چشم دید واقعات کو خیال آرائی اور زبان کی چاشنی کے ساتھ اس طرح منظر کشی کرتا ہے کہ پڑھنے والا خود کو واقعے سے منسلک کرکے واقعے کا ایک جز کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔
اس صنف کا تعلق نہ ماضی سے ہوتا ہے اور نہ ہی مستقبل سے بلکہ اس کا تعلق حال سے ہے، اس میں کیمرے کی طرح تصویرکشی نہیں کی جاتی بلکہ جذبات اور احساسات بھی بیان کیے جاتے ہیں لیکن جو کچھ بیان کیا جائے وہ حقیقت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
اس کی زبان صاف اور رواں ہونی چاہیے رپورتاژ نگار کے لیے لازم ہے کہ وہ سطحی اور غیر ضروری اطلاعات کو نظراندازکرے۔ اہم اور ضروری اطلاعات کو جس شکل، جس وقت اور جس لمحہ دیکھے اسے بغیر کسی تبدیلی کے دلکش اور پراثرانداز میں پیش کر دے اور اس طرح پیش کرے کہ قارئین اس کی جیتی جاگتی متحرک فضا میں کھو کر اس کا حصہ بن جائیں۔
اس میں جزیات نگاری کا سہارا بھی لیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے کو محسوس ہوکہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ان کے سامنے ہو رہا ہے، اس مثال کو کمنٹری کی مثال سے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سنے سنائے واقعات پر بھی رپورتاژ لکھا جا سکتا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ رائے درست نہیں کیونکہ رپورتاژ میں مصنف کا موضوع سے برائے راست تعلق بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور رپورتاژ میں اس کا سامنے بیان مستند مانا جاتا ہے۔
اس لیے اس کی موجودگی ضروری تصور کی جانی چاہیے، یعنی وہ لازمی طور پر موقع پر موجود ہو اور واقعے کی تمام روداد اس نے بہ چشم خود دیکھی ہو۔ رپورتاژ میں مصنف کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اس لیے اس کی موجودگی کے عنصرکو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اب سوال یہ ہے کہ رپورتاژ کی ضرورت اور اہمیت کیا ہے، اس ضمن میں عرض ہے کہ بعض اوقات فوری اظہار کے طلب گار ہوتے ہیں، یہ صنف اس فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔
صحافت وقتی چیز ہے اور ادب دائمی، رپورتاژ کو دونوں کے درمیان کی کڑی قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس کی رپورتاژ اس دورکی سماجی، سیاسی اور علمی سرگرمیوں، باہمی روابط، وضع داریاں، ایک دوسرے کے ساتھ رقابتیں اور باہمی کش مکش سامنے لاتی ہیں۔
ان کے ذریعے ادب کا ایک قدیم ورثہ جو آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے وہ نظروں کے سامنے آ جاتا ہے ، اس کا مقصد ان سرگرمیوں کو یاد رکھنا، ان کی قدر و قیمت کا تعین کرنا، ان کے معیارات کو سامنے لانا اور ان کے کام کو محفوظ کرنا ہے۔
رپورتاژ کسی عہد کی سیاسی، سماجی تاریخ ہوتی ہے۔ اس لیے اسے تاریخی حوالے سے دستاویزکی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اسے سیاسی، سماجی اور تہذیبی تاریخ میں بطور حوالہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس بنیاد پر اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دیا جاتا ہے ہے جس میں اس لیے اس کے سامنے ہوتا ہے کرتا ہے نہیں کی ہوتی ہے جاتی ہے کے ساتھ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔