data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ میڈیا کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف حکام نے تصدیق کی ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف حکام کے مطابق مذاکرات کے دوران اس بات پر خصوصی غور کیا جا رہا ہے کہ ٹیرف میں ممکنہ ردوبدل کا اضافی بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر نہ پڑے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ سماجی تحفظ کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے تاکہ کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔علاوہ ازیں آئی ایم ایف کے ساتھ مجوزہ ٹیرف ترامیم کا جائزہ اس تناظر میں بھی لیا جائے گا کہ آیا یہ حکومتی وعدوں اور جاری معاشی پروگرام کے اہداف سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔ آئی ایم ایف حکام کے مطابق کسی بھی ممکنہ تبدیلی سے قبل مالیاتی نظم و ضبط اور طے شدہ اصلاحاتی اقدامات کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ذرائع کے مطابق مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل کے مہنگائی، عوامی اخراجات اور مجموعی معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھنا مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کے مطابق کے ساتھ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق