14 برس کی قید حوصلے کے ساتھ کاٹی‘ صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رحیم یار خان (مانیٹر نگ ڈ یسک )صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں نے کارکنان کی حمایت سے 14 برس کی قید حوصلے کے ساتھ کاٹی۔ صدر آصف علی زرداری نے رحیم یار خان میں پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کو معاشی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے نظریاتی ورثے پر قائم ہے اور عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھے گی۔ جنوبی پنجاب کی مقامی قیادت اور سابق ٹکٹ ہولڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ اور جنوبی پنجاب کی ثقافت میں یکسانیت اور بھائی چارہ نمایاں ہے ۔انہوں نے 14 برس قید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کارکنوں کی حمایت نے انہیں ہر مشکل وقت میں حوصلہ دیا۔صدر زرداری نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور مہنگائی گزشتہ حکومت کی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں تاہم موجودہ وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔قومی سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے سرحدی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور بھارتی وزیر اعظم پر تنقید کی۔انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ افواج پاکستان نے ہمیشہ جرات اور عزم سے وطن کا دفاع کیا ہے۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ زرعی ترقی کے لیے کسانوں کو جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ غذائی تحفظ اور قومی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے صدر مملکت کہا کہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ