ایپ کی اسارت اور مروت کی غارت
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260215-09-4
بھلے وقتوں کی بات ہے جب خط لکھنا عبادت سے کم نہ تھا جب خط لکھنا محض لکھائی نہیں، ایک باقاعدہ تقریب ہوا کرتی تھی۔ قلم تراشا جاتا، روشنائی سے دو دو ہاتھ کیے جاتے، کاغذ سیدھا کیا جاتا اور دل کا حال یوں اُتارا جاتا جیسے کسی مزار پر منت مانی جا رہی ہو۔ اِدھر خط ڈاک خانے میں ڈالا، اُدھر دہلیز پر بیٹھ کر قاصد کا راستہ تکنا شروع۔ وہ انتظار، میاں! وہ انتظار جسے آج کے ان ’نیلے ٹک‘ والے چھچھورے کیا جانیں! کہاں وہ چوڑی چمڑی کے خط جیسے کاغذی پتنگوں میں لپٹے جذبوں کے پرندے اور کہاں یہ موبائل کے چمکتے شیشے، جن میں نیم تْرش رشتوں کی سریلیاں بسی ہوتی ہیں۔ لوگ کاغذ پر احوال لکھتے تھے: دل کا بوجھ، جیب کا ہلکا پن، رشتوں کی بھاری ذمے داریاں سب سیاہی کے حوالے۔ پھر خط کو یوں سنبھال کر رکھتے جیسے اماں جان کی الماری میں رکھے زیور: نہ ہاتھ لگاؤ، نہ سانس چڑھاؤ۔ جواب کا انتظار ایسا کہ دن گنے جائیں، ہفتے تولے جائیں، اور مہینے یوں کاٹے جائیں جیسے قیدی سزا۔ پہلے لوگ کاغذ کو سینے سے لگا کر لکھتے تھے گویا ورقِ مشق ِ محبت ہو۔ روشنائی میں اپنا عرقِ جاں گھولتے، ہر لفظ کو تہذیب کی چادر اوڑھاتے، پھر ڈاک کے بھروسے سونپ دیتے۔ ڈاکیا بھی ’’پیاری چٹھی‘‘ کہہ کر دیتا تھا۔
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
اب تو میسج کی گھنٹی بجے تو دل دھک سے رہ جاتا ہے یا تو کوئی قرض مانگنے آیا ہے، یا کوئی یاد کر کے ستانے۔ پہلے انتظار کی گھڑیاں چْرکیوں کی طرح چلتی تھیں۔ جواب آتا تو خوشی کے مارے چھت پر ناچتے:
خط آیا ہے، ذرا ٹھیر کے پڑھیں گے
دل دھڑکے تو پہلے پانی پئیں گے
کہاں گئے وہ محاورے: چٹھی کا جواب پاٹ کے، دل میں ٹھنڈک پڑنا، خط کا مْہرہ کھولنا۔اب تو وقت نے ایسی قلابازی کھائی ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر ہو گئی۔ کاغذ کی مہک کہاں، سیاہی کا رچاؤ کہاں! اب مشینوں کا دور دورہ ہے۔ اِدھر ’’میسج‘‘ بھیجا، اُدھر تھالی کے بینگن کی طرح جواب حاضر اور اکثر تو جواب بھی کیا خاک! حال یہ ہے کہ: بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
آپ نے پیغام بھیجا، سامنے والے نے دیکھا، اور ایسا نظرانداز کہا جیسے ہم مان نہ مان میں تیرا مہمان ہوں۔ تین تین دن جواب ندارد! پہلے لوگ خط کو تعویذ بنا کر رکھتے تھے، اب ’’ڈیلیٹ‘‘ کا بٹن یوں دباتے ہیں جیسے پرانا گناہ دھو رہے ہوں۔ ایک کلک میں سب کچھ ڈِگ ڈِگ گویا رشتوں کے بھی ری سائیکل بن گئے ہوں۔ سچ پوچھیے تو اب وہ خلوص اور لحاظ چیل کے گھونسلے میں ماس کی طرح غائب ہے۔ خیریت بھی اب ایک رسم رہ گئی ہے۔ ’’ٹھیک ہوں‘‘ کا جواب یوں آتا ہے جیسے کوئی اُدھار واپس کر رہا ہو۔ وہ لمبی چوڑی دعائیں، وہ خیریت کے پلندے سب منوں مٹی تلے دفن۔
محبت اب کہاں باقی، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
فقط اک انگلی کا کھیل ہے، یہ سب رہنے کی باتیں ہیں
وقت کا پہیہ گھوما اور ایسا گھوما کہ عادتیں بھی گھس گئیں۔ انگلیوں نے قلم سے بغاوت کر لی، اور جذبات کی سیاہی اسکرین کی روشنی میں پھیکی پڑ گئی۔ اب سیکنڈوں میں پوچھا جاتا ہے:
’’ہیلو، کیا حال ہے؟‘‘
اور جواب تیار: ’’ٹھیک ہوں‘‘۔ بس ٹھیک ہوں!
جیسے دل کی پوری تاریخ ایک فقرے میں نچوڑ دی گئی ہو۔ دل کرے تو جواب، دل نہ کرے تو نظرانداز محلے کے اْس رشتہ دار کی طرح جسے سب جانتے ہیں، مگر سلام کوئی نہیں کرتا۔ محبت اب ایپ کی اجازت مانگتی ہے۔ احساس ’’لاسٹ سین‘‘ میں اٹک گیا ہے۔ اسکرین روشن تو سب ہرا بھرا، اسکرین بجھی اور مروت کا چراغ گل۔ کسی بزرگ نے سچ ہی کہا تھا:
خطوں میں جو مہک تھی، وہ ایموجی میں کہاں
وہ بات جو ٹھیری تھی، وہ جلدی میں کہاں
اب نہ انتظار کی لذت، نہ جواب کی عزت۔ سب کچھ فاسٹ؛ فاسٹ فوڈ، فاسٹ محبت، فاسٹ وعدے۔ بزرگ کہتے تھے: جلدی کا کام شیطان کا اور اب تو شیطان باقاعدہ وائی فائی پر بیٹھا ہے۔ محبت، خلوص، احساس سب منوں مٹی تلے دب گئے ہیں، اور اوپر سے ’’سائلنٹ موڈ‘‘ کا بورڈ لگا ہے۔ خط کی خوشبو کہاں، اسکرین کی چمک کہاں؛ دل کی بات کہاں، ’’ٹھیک ہوں‘‘ کہاں!
کہاں وہ مراسلہ نگاری کی رونقیں رہ گئیں
کہاں وہ قلم و قرطاس کی داستانیں رہ گئیں
احوال تو پل میں پہنچ جاتے ہیں آج مگر دل سے نکل گئے وہ پرانے فسانے سب بات میں بات اور اب بات ہی نہ رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹھیک ہوں کہاں وہ کی طرح کی بات
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز