Jasarat News:
2026-06-02@23:10:45 GMT

بنگلا دیش 2026: جمہوریت کا دھاڑی پلہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260215-09-7
بنگلا دیش کے 13 ویں پارلیمانی انتخابات 2026 محض ایک سیاسی مرحلہ نہیں بلکہ تاریخ کے ایک اہم موڑ کی علامت ہیں۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب ملک سیاسی انتشار، معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی کشمکش کے دور سے گزر چکا تھا۔ 2024 کے عوامی اضطراب کے بعد منعقد ہونے والے یہ پہلے انتخابات تھے جنہوں نے نہ صرف اقتدار کی سمت متعین کی بلکہ عالمی سیاست کے دوہرے معیار کو بھی بے نقاب کیا۔ شیخ حسینہ واجد کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلی بار عوام کو نسبتاً کھلا سیاسی میدان میسر آیا۔ تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 65 فی صد نے ووٹ ڈالا، جو سیاسی بیداری اور تبدیلی کی خواہش کا واضح اظہار تھا۔

نتائج نے ملک کی سیاسی بساط کو یکسر بدل دیا۔ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 197 نشستیں حاصل کیں جبکہ اتحادیوں سمیت یہ تعداد 212 تک جا پہنچی، یوں اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی۔ اس کامیابی نے طارق رحمن کے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے کی راہ ہموار کر دی۔ دوسری جانب جماعت اسلامی بنگلا دیش نے72 نشستیں حاصل کر کے اور اتحادیوں کے ساتھ 78 تک پہنچ کر پارلیمنٹ میں دوسری بڑی قوت کے طور پر خود کو منوایا۔ یہ نتیجہ محض اعداد وشمار نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت ہے۔ چند برس قبل تک یہی جماعت ریاستی جبر، مقدمات، پابندیوں اور پھانسیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ عوامی لیگ کے دور میں اس کی قیادت کو سزائیں دی گئیں، کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا۔ مگر نظریاتی تحریکیں وقتی دباؤ سے ختم نہیں ہوتیں۔ آج جماعت اسلامی دوبارہ پارلیمنٹ کے ایوان میں مضبوط آواز کے ساتھ موجود ہے۔ یہاں اصل سوال عالمی سیاست کے کردار کا ہے۔ جب سیکولر یا مغرب نواز قوتیں جمہوری عمل کو کمزور کر کے اقتدار حاصل کرتی ہیں تو عالمی برادری رسمی بیانات پر اکتفا کرتی ہے۔ لیکن جیسے ہی اسلام پسند قوتیں جمہوری طریقے سے عوامی حمایت حاصل کریں، فوری تشویش، سفارتی دباؤ اور معاشی اشارے سامنے آنے لگتے ہیں۔ یہی وہ ’’دھاڑی پلہ‘‘ ہے، ایک ترازو، مگر دو معیار۔

مصر میں عوامی مینڈیٹ کے ذریعے منتخب حکومت کو چند ہی برسوں میں ختم کر دیا گیا۔ الجزائر میں انتخابات اس وقت روک دیے گئے جب اسلامی جماعتیں واضح برتری حاصل کر رہی تھیں۔ فلسطین میں 2006 کے انتخابات کے نتائج کو عالمی سطح پر قبول نہ کیا گیا۔ اب یہی خدشات بنگلا دیش کے حوالے سے زیر ِ بحث ہیں۔ جمہوریت اگر عوام کی رائے کا نام ہے تو پھر اس رائے کی نوعیت پر اعتراض کیوں؟ کیا جمہوریت صرف مخصوص نظریات کے لیے قابل ِ قبول ہے؟ یہی سوال آج بنگلا دیش کے تناظر میں عالمی ضمیر کے سامنے کھڑا ہے۔ بی این پی کی دو تہائی اکثریت کے پیچھے کئی عوامل کارفرما تھے۔ عوامی لیگ کی انتخابی سیاست سے غیر موجودگی نے سیاسی توازن بدل دیا۔ اس جماعت کا روایتی ووٹ بینک منتشر ہو کر مختلف حلقوں میں تقسیم ہوا، جس کا سب سے زیادہ فائدہ بی این پی کو پہنچا۔ یہ ایک طرح کا ’’نیگیٹو ووٹ‘‘ بھی تھا ایک ایسے ووٹر کا ووٹ جو کسی نظریاتی وابستگی کے بجائے کسی مخصوص قوت کو روکنے کے لیے ڈالا گیا۔ اگر عوامی لیگ مکمل قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہوتی تو مقابلہ سہ فریقی ہوتا اور نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ جماعت اسلامی کا ووٹ نظریاتی، منظم اور متحرک تھا۔ اس کی تنظیمی ساخت دیہی علاقوں تک مضبوط ہے۔ اگر ووٹ کی تقسیم مختلف ہوتی تو جماعت اسلامی کی نشستیں مزید بڑھ سکتی تھیں۔

مذہبی ووٹ کا ایک بڑا حصہ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوا۔ اسلامی اندولن بنگلا دیش اور دیگر مذہبی گروہوں نے بھی متعدد نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے۔ اگرچہ وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکے، مگر انہوں نے جماعت اسلامی کے ممکنہ ووٹ بینک کو متاثر کیا۔ بعض مذہبی شخصیات نے بی این پی کی حمایت کا اعلان کیا، جس سے نظریاتی اتحاد کی مکمل تصویر سامنے نہ آ سکی۔ یہ صورتحال اسلامی سیاست کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ نظریاتی ہم آہنگی کے باوجود عملی سیاست میں اتحاد اور حکمت عملی نہ ہو تو نتائج متاثر ہوتے ہیں۔ بنگلا دیش میں تقریباً 13 فی صد ہندو اقلیت موجود ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس طبقے کا بڑا حصہ بی این پی کے حق میں گیا تاکہ جماعت اسلامی فیصلہ کن اکثریت حاصل نہ کر سکے۔ بھارت کے ساتھ تاریخی و جغرافیائی تعلقات بھی اس سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر بنگلا دیش میں کوئی ایسی حکومت قائم ہو جو خارجہ پالیسی میں نئی سمت اختیار کرے تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے انتخابی نتائج کو صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔

انتخابات کے بعد بعض حلقوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے۔ جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ کئی حلقوں میں ابتدائی برتری کو بعد میں شکست میں بدل دیا گیا۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے مجموعی طور پر عمل کو شفاف قرار دیا، مگر سوشل میڈیا اور مقامی مبصرین نے کئی سوالات اٹھائے۔ یہ الزامات اگر ثابت نہ بھی ہوں تب بھی یہ حقیقت واضح ہے کہ انتخابی شفافیت پر اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کا ووٹ محفوظ نہیں تو سیاسی بے چینی جنم لیتی ہے۔

آئینی اصلاحات اور ریفرنڈم: ان انتخابات کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی منعقد ہوا جس میں 72 فی صد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوام نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ مگر اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس مینڈیٹ کو حقیقی اصلاحات میں بدل پائے گی یا یہ محض سیاسی وعدہ ثابت ہوگا؟ دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کے پاس قانون سازی کی بھرپور طاقت موجود ہے۔ اگر یہ طاقت عوامی مفاد میں استعمال ہوئی تو بنگلا دیش ایک نئے سیاسی باب میں داخل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے محض اقتدار کے استحکام کے لیے استعمال کیا گیا تو مایوسی بڑھ سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا دوسری بڑی قوت کے طور پر ابھرنا اسلامی تحریکوں کے لیے حوصلہ افزا پیغام ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نظریاتی سیاست ابھی زندہ ہے۔ جبر، مقدمات اور پابندیاں وقتی رکاوٹیں تو ڈال سکتی ہیں مگر عوامی حمایت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔ یہ انتخاب یہ بھی سکھاتا ہے کہ صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ منظم حکمت عملی،

وسیع اتحاد اور عوامی مسائل پر توجہ سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی سیاست کو معاشی پالیسی، تعلیم، خارجہ تعلقات اور اقلیتوں کے حقوق جیسے موضوعات پر واضح پروگرام پیش کرنا ہوگا۔ بنگلا دیش کے 2026 کے انتخابات نے عالمی سیاست کے ’’دھاڑی پلہ‘‘ کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ ایک طرف جمہوریت کا نعرہ، دوسری طرف نظریاتی وابستگی کی بنیاد پر قبولیت یا رد۔

اصل معرکہ نشستوں کا نہیں بلکہ بیانیے کا ہے۔ اگر عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا گیا، شفافیت کو یقینی بنایا گیا اور آئینی اصلاحات کو عملی شکل دی گئی تو بنگلا دیش ایک مستحکم اور خودمختار سیاسی نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر عالمی دباؤ، داخلی سازشیں یا مفاداتی سیاست غالب آئی تو یہ جدوجہد مزید طول پکڑے گی۔ تاریخ کا ترازو وقتی سیاست سے مختلف ہوتا ہے۔ وہاں دھاڑی پلہ نہیں چلتا۔ وہاں صرف اصول، استقامت اور عوامی اعتماد وزن رکھتے ہیں۔ اور یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قوم کے مستقبل کا حقیقی تعین کرتے ہیں۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش کے نہیں بلکہ بی این پی سیاست کے اگر عوام کے ساتھ کیا گیا ہوتا ہے کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی