بھارت کے عالمی شہرت یافتہ شاعر، نغمہ نگار اور فلم ساز جاوید اختر نے بنگلادیش کے حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی شکست پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

جاوید اختر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بنگلادیش میں ہونے والے حالیہ الیکشن میں جماعت اسلامی کی شکست کو خوش آئند قرار دیا۔

انھوں نے مزید لکھا کہ دائیں بازو کی سیاست کی نمائندہ سمجھی جانے والی جماعتِ اسلامی کی الیکشن میں شکست اس بات کی علامت ہے کہ بنگلادیش کی اکثریت مبینہ طور پر اقلیتوں کے خلاف فرقہ وارانہ رویے کی حمایت نہیں کرتی۔

جاوید اختر کا کہنا تھا کہ الیکشن میں جماعت اسلامی کی اس شکست سے اس تاثر کی نفی ہوجاتی ہے کہ بنگلادیشی عوام مذہبی بنیادوں پر سیاست یا اقلیتوں کے خلاف تعصب کو قبول کرتے ہیں۔

Jamat -e- Islami of Bangladesh which is the fountainhead of the right wing that is responsible for all the atrocities on the Hindus of that country is defeated in the elections quite badly .

It means most of the Bangladeshi papulation doesn’t approve of jamat ‘s communal bias…

— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) February 13, 2026

جاوید اختر کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آئیں، جہاں بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کی جبکہ کچھ نے اسے سیاسی معاملے میں مداخلت قرار دیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے جاوید اختر کو اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ فلم سازوں کو سیاست سے دور ہی رہنا چاہیئے۔ یہ ان کا میدان نہیں ہے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں جماعت اسلامی کی جاوید اختر

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا