ٹی 20 ورلڈ کپ، جنوبی افریقا نے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ٹی 20 ورلڈ کپ کے 24ویں میچ میں جنوبی افریقا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے ہرا دیا۔
احمدآباد میں کھیلے گئے میچ میں جنوبی افریقا نے نیوزی لینڈ کی جانب سے دیا گیا 176 رنز کا ہدف 18ویں اوور میں 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاک بھارت دنگل، ماضی کا ریکارڈ کس کے حق میں؟
جنوبی افریقا کے کپتان ایڈن مارکرم نے 44 گیندوں پر 86 رنز کی شاندار میچ وننگ اننگز کھیلی، جس میں 8 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔
ڈیوڈ ملر 24 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، ڈیوڈ بریوس اور ریان رکلٹن نے 21، 21 رنز بنائے جبکہ اوپنر ڈی کوک 20 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے رچن رویندرا، جمی نیشم اور فرگوسن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 175 رنز بنائے اور جنوبی افریقا کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا
مارک چیپمن کی 48 رنز کی اننگز رائیگاں گئی جبکہ ڈیرل مچل 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
جنوبی افریقا کے مارکو جینسن کو 4 وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جبکہ مہاراج اور نگیدی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ٹی 20 ورلڈ کپ جنوبی افریقہ شکست کرکٹ نیوزی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹی 20 ورلڈ کپ جنوبی افریقہ کرکٹ نیوزی لینڈ جنوبی افریقا نیوزی لینڈ ورلڈ کپ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :