باچاخان یونیورسٹی میں بھارتی ترانہ گانے والے طلبا کو خارج کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)باچا خان یونیورسٹی میں بھارتی ترانہ گانے پر ڈسپلنری کمیٹی نے چار طالب علموں کو یونیورسٹی سے خارج کر دیا۔ باچا خان یونیورسٹی میں دو روز قبل چند طلبہ کی جانب سے بھارتی ترانہ پیش کیاگیا اور نعرہ بازی کی گئی اور بعد ازاں اس اقدام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی۔یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جامعہ کی ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا جہاں کمیٹی کے 73 ویں اجلاس کے دوران واقعے میں ملوث فارمیسی ڈپارٹمنٹ کے چار طالب علموں کو فوری طور پر جامعہ سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔باچا خان یونیورسٹی کی جانب سے اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مذکور چاروں طلبہ کی ہاسٹل سیٹس بھی فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ 13 فروری کو منعقدہ یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کے 73 ویں اجلاس کی سفارشات اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد واقعے میں ملوث طالب علموں کو جامعہ کی حدود میں ریاست مخالف نعرے بلند کرنے یونیورسٹی اور ہوسٹل سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی پر خارج کردیا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ ان طلبہ نے اشتعال دلانے اور قومی اتحاد کو پارہ کرنے کی نیت سے بھارت کا قومی ترانہ بھی گیا، واقعے کو ریکارڈ بھی کیا اور اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بھی کی جو غیرقانونی اقدام ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان طلبہ کی ہوسٹل سیٹس بھی منسوخ کردی گئی ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر ہوسٹل خالی کردیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔