رمضان پیکج کی ادائیگی کیلئے اے ٹی ایم کارڈ کی ڈیلیوری شروع، کچے کے علاقے مکمل کلیئر ہوچکے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ)کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے پاک،راجن پوراوررحیم یار خان کے جزیرہ نماعلاقے کلیئرکردئیے گئے-راجن پور کے علاقوں سے 342اوررحیم یار خان کے علاقے سے 200ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دئیے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کچے کے علاقوں کیلئے ڈویلپمنٹ کا اعلان کردیا۔کچہ کے علاقے میں سکول، کالج، ہسپتال اورٹیوٹا کے ادارے قائم کیے جائیں گے۔کچہ میں بہتر ٹرانسپورٹ کیلئے گرین بس سروس اوردیگر سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔کچے کے لوگوں کیلئے اپنا کھیت اپنا روز گار کے تحت زرعی اراضی اور کسان کارڈ دینے کا فیصلہ کیاگیا۔کچے کے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ٹیکنیکل ایجوکیشن سینٹر بنانے کا فیصلہ کیاگیا۔چیف منسٹر پروگرام آف کچہ ایریا ڈویلپمنٹ کیلئے 3رکنی اعلی ٰسطح کمیٹی قائم کردی گئی۔ سینئر منسٹرمریم اورنگزیب کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں ہوم سیکرٹری اورایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ شامل ہیں۔ ٰپنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اعلی سطح اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی ٰمریم نوازشریف نے پاک فوج،رینجرز،پنجاب و سندھ پولیس،سی سی ڈی،سپیشل برانچ سمیت تمام اداروں کو مبارکباداورشاباش دی۔ اور 6 ہفتے کے کچہ آپریشن میں کہیں دہائیوں کے بعد رحیم یار خان اورراجن پور کے علاقے مکمل طورپر کلیئر ہوچکے ہیں۔45 دن سے کچے کے علاقے میں اغواء برائے تاوان اورہنی ٹریپ کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔سرنڈر کرنے والے 500سے زائد ڈاکوؤں میں ہائی پروفائل گینگ لیڈر بھی شامل تھے۔متعدد پر انعام بھی مقرر تھا۔چاروں طرف سے دریاء کی وجہ سے رسائی آسان نہیں تھی، ڈاکو پولیس والوں کو شہید کرتے تھے،بہت جنازے اٹھائے۔ ڈاکوؤں سے راکٹ لانچر،مشین گنیں،پسٹل،امونیشن،ہینڈ گرنیڈ اوردیگر بھاری اسلحہ بھی برآمد کیاگیا۔ ڈاکوؤں نے خوف کی سلطنت بنائی،ریاست کے اندر ریاست قائم کرلی،کسی قانون اورآئین کو نہیں مانتے تھے۔مجھے بتایاگیا کہ ڈاکو ہنی ٹریپ اوردیگر حربوں سے لوگوں کو سہ طرفی بارڈر ایریا میں لے جاتے ہیں۔ پہلی مرتبہ پانچ سو سے زائد کریمنلز نے ریاست کے سامنے سرنڈر کیا اورخون بہائے بغیر آپریشن مکمل ہوگیا۔انٹیلی جنس کے اشتراک کار کی وجہ سے کچہ آپریشن میں کامیابی ممکن ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 30سال کے بعد بی ایم پی میں باقاعدہ بھرتیاں کی گئی اورپہلی مرتبہ53خواتین بھی شامل ہوئیں۔ سندھ پولیس کا خاص طورپر شکریہ ادا کرتی ہوں، سندھ کے تعاون کے بغیر کچہ آپریشن کی کامیابی ممکن نہیں تھی۔پنجاب میں کچہ کے آپریشن کے لئے 1700سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ کچہ ایریا میں تعینات ملازمین کو ہارٹ ایریا الاؤنس دیا جاتا ہے۔اللہ تعالی کے فضل و کرم سے کچہ کا علاقہ کلیئر ہوا اب ریاست کی رٹ کوبحال رکھنا ہے۔کچے کے علاقے کو وہ پیکیج دینا ہے جو پنجاب کے دوسرے علاقوں کوملتاہے۔کچہ کے علاقوں میں خوبصورت سڑکیں اورگرین بسیں چلائیں گئے۔کچہ کے لوگوں کو اپنا کھیت،اپنا روزگار کے تحت کھیتی باڑی کیلئے سرکاری اراضی اورکسان کارڈ دیں گے۔ کچہ میں روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے گا۔ کچہ کے علاقے میں ٹیوٹا ادارے قائم کریں گے۔کشتیوں میں سکول اورہسپتال کون جاسکتا تھا۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ کچے کے علاقے میں نئے سکول،کالج اورہسپتال بنائیں گے۔کچے میں اضافی مراعات اوربہت بڑا پیکیج اورجاب دیں گے۔کچے کے لوگوں کی زندگیوں کو ترقی اوروسائل فراہم کرکے بہتر بنائیں گے۔ کچہ کے لوگ اپنے صوبے پر فخر کریں گے۔کچہ کے علاقے میں تعینات ہونے والے ڈاکٹرز،ٹیچرز کو سپیشل الاؤنس اورمراعات دی جائیں گی۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکس میسج پر کہاہے کہ پنجاب میں رمضان نگہبان پیکیج کی ادائیگی کے لئے اے ٹی ایم کارڈ کی ڈلیوری شروع کر دی گئی ہے۔ نگہبان اے ٹی ایم کارڈ کے اجراء پر اظہار تشکر کیا ہے۔رمضان نگہبان پیکیج کے تحت 40لاکھ گھرانوں کو 40ارب روپے مالی امداد دی جائے گی ۔نہ لمبی قطاریں،نہ مشقت، آسانی کے احساس کے ساتھ مالی امداد پہنچائی جائے گی ۔40لاکھ گھرانوں کو رمضان نگہبان پیکیج کے تحت مالی امداد کی ادائیگی کا پورا نظام مکمل ڈیجیٹل او رشفاف ہوگا۔پی آئی ٹی بی کے ڈیجیٹل رمضان نگہبان پیکیج میں ہر مرحلے پر شفافیت کا اہتمام کیاگیاہے۔رمضان نگہبان پیکیج کے متعلق معلومات کے لئے 08000-2345 ہیلپ لائن قائم کردی گئی ہے۔رمضان نگہبان پیکیج کے لئے ہر تحصیل میں 160خصوصی مراکز بھی قائم کر دئیے گئے ہیں ۔رمضان نگہبان اے ٹی ایم کارڈ کی ایکٹی ویشن اور رقم کے حصول کے لئے صوبہ بھر میں برانچ لیس ایجنٹ اور آؤٹ لٹ بھی مقرر کر دئیے گئے۔ رمضان میں کوئی فیملی خود کو تنہا محسوس نہ کرے،یہی ہمارا مشن ہے ۔رمضان کریم کی برکتیں ہر گھر کی دہلیز تک پہنچانا اولین ترجیح ہے۔رمضان المبارک میں راشن کارڈ کی مالی امداد ماہانہ 3ہزار سے بڑھا کر 10ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری سامنے آگئی۔ آلو کے کاشتکاروں کی مشکلات کے ازالے اور منافع میں اضافہ کے لیے مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ۔وزیراعلیٰ کے خط میں آلو کی برآمدات بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیاگیاہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے خط میں نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (NLC) کے ذریعے آلو کی برآمدات میں تیزی لانے کی درخواست کی ہے- خط میں آلو کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی درخواست کی ہے-وزیراعلیٰ نے آلو کی برآمد کے لیے کرائے کی لاگت میں 25 فیصد خصوصی رعایت کی اپیل کی ہے۔ برآمد کے لیے کاغذی کارروائی میں خصوصی نرمی کی درخواست بھی کی ہے۔ یورپی یونین، افریقہ اور امریکہ سمیت عالمی منڈیوں تک رسائی سمیت دیگر ضروری اقدامات کی درخواست کی ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کے اقدامات سے کاشتکاروں کو آلو کی بہتر قیمتیں حاصل ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نوازشریف اے ٹی ایم کارڈ ا لو کی برا مد کے علاقے میں کچے کے علاقے مالی امداد کی درخواست مریم نواز کے لوگوں ہے رمضان ڈاکوو ں کارڈ کی کے لیے کے تحت کچہ کے
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔