اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے)سی ڈی اے کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نئے سیکٹرز میں ڈیویلپمنٹ ورک کا جائزہ اور الاٹیوں کو جلد قبضہ دینے کے حوالے سے ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت منعقدہ اس اہم اجلاس میں ممبر ایڈمن و اسٹیٹ طلعت محمود، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا، ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔متعلقہ افسران نے چیئرمین سی ڈی اے کو سیکٹر ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیکٹر C-14 میں بنیادی انفراسٹرکچر کا کام تکمیلی مراحل میں ہے اور سیکٹر C-14 میں پلاٹس کا قبضہ الاٹیز کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہیں۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس سلسلے میں سیکٹر C-14 میں پلاٹس کے قبضہ کی حوالگی کا عمل جلد ہی شروع کردیا جائیگا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ سیکٹر C-14 میں اسٹریٹ نمبرز آویزاں اور گوگل میپ پر مقام کی نشاندہی کے عمل کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔متعلقہ افسران نے سیکٹر E-12 کے ترقیاتی کاموں میں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے چیئرمین سی ڈی اے کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیکٹر E-12 کے سب سیکٹرز 1 اور 2 میں بنیادی انفراسٹرکچر کا کام  مکمل کرلیا گیا ہے اسی طرح سیکٹر E-12 کے سب سیکٹرز 1 اور 2 میں پلاٹس بھی الاٹیز کو قبضہ حوالگی کیلئے تیار ہیں۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے سیکٹر E-12 کے داخلی راستے کی کلیئرنس کو بھی جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیکٹر E-12 سے ہر قسم کی غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کو قانون کے مطابق ہٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیکٹر E-12 میں گوگل میپ پر پلاٹس کے مقام کی نشاندہی کے عمل کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ متعلقہ افسران نے چیئرمین سی ڈی اے کو سیکٹر I-12 کے ترقیاتی کاموں میں ہونے والی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیکٹر I-12 میں تقریبا تمام رہائشی و کمرشل پلاٹس پلاٹس ڈویلپڈ کئے جاچکے ہیں اور جلد ہی ڈویلپڈ پلاٹس مالکان کو قبضے دینے کے عمل کا باقاعدہ آغاز کردیا جائیگا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ شہریوں کو انکے تیار شدہ پلاٹوں پر قبضہ فراہم کرنا سی ڈی اے کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں اس عمل کا جلد آغاز کیا جائے انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نئے سیکٹرز میں ڈیویلپڈ پلاٹس کا قبضہ دہائیوں کے بعد کرنے جا رہا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ تمام سیکٹرز میں پلاٹوں کی نشاندہی گوگل میپ پر کی جائے اور شہریوں کو انکے پلاٹس کی لوکیشن کی معلومات فراہم کی جائیں اور ہدایت کی کہ تمام سیکٹرز میں نہ صرف پلاٹس حوالگی کے عمل کو تیز کیا جائے بلکہ باقی ماندہ ڈویلپمنٹ ورک اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کو بہترین رہائشی سہولیات فراہم کرنے کیلئے نئے سیکٹرز کی ڈیولپمنٹ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: محمد علی رندھاوا متعلقہ افسران نے چیئرمین سی ڈی اے سیکٹر C 14 میں سیکٹر E 12 کے سیکٹرز میں شہریوں کو نے کہا کہ کے حوالے ہدایت کی کہ سیکٹر کے عمل

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار