ضلع خیرپور : مسافر بس اور ٹریلر کے درمیان تصادم ،11افراد جاں بحق،10زخمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
سٹی 42:ٹنڈو مستی، ضلع خیرپور کے قریب قومی شاہراہ پر ایک مسافر بس اور ٹریلر کے درمیان تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں 11 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 10 دیگر زخمی ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق تیز رفتار بس اوور ٹیکنگ کے دوران ٹرک سے جا ٹکرائی، حادثے میں مسافر بس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر بھی جان گنوا بیٹھے۔ تمام لاشوں اور زخمیوں کو خیرپور سول اسپتال منتقل کردیا گیا، بدقسمت مسافر بس پنجاب سے کراچی آرہی تھی۔
بلال صدیق کمیانہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں افسران کو اہم ہدایات
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق حادثہ مبینہ طور پر بس ڈرائیور کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث پیش آیا جبکہ اطلاع ملتے ہی موٹروے پولیس موقع پر پہنچ گئی اور فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق زخمیوں اور جاں بحق افراد کو ریسکیو اداروں کی مدد سے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے جبکہ سینئر افسران بھی جائے حادثہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کررہے ہیں،ریسکیو 1122 اور مقامی پولیس بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس، ہفتہ 14فروری 2026
علاوہ ازیں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فوری طور پر حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی خیرپور کو ہدایت کی کہ وہ جائےحادثہ پرپہنچیں اور امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کریں جبکہ انھوں نے زخمیوں کی اسپتال منتقلی کے دوران راستوں کو کلیئر رکھنے اور اطراف کے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔
موٹروے پولیس کی جانب سے ٹریفک کی بحالی اور روڈ کلیئرنس کا عمل جاری ہے جبکہ حادثے کی مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کارکیخلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مسافر بس
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔