نائجیریا میں مسلح افراد کے حملے، 32 افراد ہلاک، متعدد شہری اغوا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
نائجیریا کی ریاست نائجر میں مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ہفتہ کی علی الصبح 3 دیہات پر حملے کرکے کم از کم 32 افراد کو قتل کردیا اور درجنوں مکانات و دکانوں کو آگ لگا دی۔ مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق حملوں کے بعد کئی افراد کو اغوا بھی کیا گیا ہے۔
یہ حملے ٹُنگا ماکری، کونکوسو اور پِسّا نامی دیہات پر کیے گئے، جو بورگو لوکل گورنمنٹ ایریا میں جمہوریہ بینن کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کا نائیجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ، متعدد شدت پسند ہلاک
ریاستی پولیس کے ترجمان واسیو ابیوڈن نے بتایا کہ ٹُنگا ماکری پر حملے میں 6 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ‘نامعلوم تعداد میں افراد کو اغوا کیا گیا’۔ انہوں نے کونکوسو پر حملے کی بھی تصدیق کی تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کے مطابق مشترکہ سیکیورٹی ٹیموں کو علاقے میں روانہ کردیا گیا ہے اور متاثرین کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔
نائجیریا میں بڑھتی ہوئی بدامنی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور حکام پر امن و امان بحال کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔ شمالی نائجیریا اس وقت پیچیدہ سیکیورٹی بحران کا شکار ہے جہاں ایک جانب شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہیں تو دوسری جانب مسلح گروہ تاوان کے لیے اغوا اور خونریز حملے کررہے ہیں۔
یہ تازہ حملے اسی ماہ ہمسایہ ریاست کوارا میں ہونے والے ایک مہلک حملے کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں 162 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
ٹُنگا ماکری کے رہائشی اووال ابراہیم نے بتایا کہ ان کے گاؤں پر مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 3 بجے حملہ ہوا۔ ‘مسلح افراد بڑی تعداد میں موٹر سائیکلوں پر آئے، فائرنگ کی، 6 افراد کے سر قلم کیے اور دیگر کو قتل کردیا۔ دکانوں کو آگ لگا دی گئی اور پورے گاؤں کو نقل مکانی پر مجبور کردیا گیا۔’
یہ بھی پڑھیے: نائیجیریا: مسلح افراد نے 24 طالبات سمیت 30 افراد کو اغوا کر لیا
انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے بہت سے مکین واپسی سے خوفزدہ ہیں کیونکہ مسلح افراد اب بھی قریبی علاقوں میں موجود ہیں۔
حالیہ مہینوں میں نائجیریا اور امریکا کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن نے نائجیریا میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی شراکت داری کو وسعت دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق دسمبر میں مسلح گروہوں کے خلاف امریکی کارروائیاں بھی کی گئیں اور امریکی فوجی اہلکاروں کی ایک ٹیم مغربی افریقی ملک میں موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مسلح افراد کے مطابق افراد کو کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔