نائجیریا میں موٹر سائیکل سواروں کا خونریز حملہ، 32 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
نائجیریا کی شمالی ریاست نائجر میں موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد کے حملوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ درجنوں کو اغوا کر لیا گیا۔ عینی شاہدین اور مقامی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے بورگو کے علاقے میں تین دیہات کو نشانہ بنایا۔
ریاستی پولیس کے ترجمان واسیو ابیودون نے تصدیق کی کہ مسلح افراد نے ٹُنگا ماکیری گاؤں پر حملہ کیا جہاں چھ افراد جان سے گئے، متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی اور کئی افراد کو اغوا کیا گیا۔ بعد ازاں حملہ آور کونکوسو گاؤں کی طرف بڑھ گئے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق کونکوسو میں فائرنگ کا سلسلہ صبح سویرے شروع ہوا اور حملہ آوروں نے اندھا دھند گولیاں چلائیں۔ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 26 سے 38 تک بتائی گئی ہے۔ گاؤں میں پولیس اسٹیشن کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا اور متعدد افراد لاپتا ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حملہ آوروں نے پِیسا نامی گاؤں میں بھی کارروائی کی اور وہاں ایک شخص کو قتل کر دیا۔ علاقے کے بیشتر مکانات کو آگ لگا دی گئی ہے۔
نائجر اور کوارا ریاستوں کی سرحد کے قریب واقع کینجی جنگل کو شدت پسند اور مسلح گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں بوکوحرام اور دیگر گروہ سرگرم رہے ہیں۔
مقامی مذہبی و سماجی رہنماؤں نے صدر مملکت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مستقل فوجی اڈہ قائم کیا جائے تاکہ حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکا کے صدر نے گزشتہ برس نائجیریا میں سیکیورٹی صورتحال پر تنقید کی تھی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں مسیحیوں اور مسلمانوں دونوں کو شدت پسندی کا سامنا ہے اور کسی ایک مذہبی گروہ کو منظم طور پر نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔