امریکا بلاتاخیر ایران پر حملہ کردے،مذاکرات میں وقت ضائع نہ کرے: رضا پہلوی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رضا پہلوی نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں وقت ضائع کیے بغیر بلاتاخیر فوجی حملہ کرے۔
عالمی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے معزول شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ تہران میں امریکی فوجی مداخلت انسانی جانیں بچا سکتی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جوہری معاہدے پر مذاکرات میں زیادہ وقت ضائع نہ کرے، امریکا بلاتاخیر ایران پر حملہ کردے ۔
انٹرویو میں رضا پہلوی نے کہا کہ ایرانی حکومت گرنے کے دہانے پر ہے اور امریکی فوجی حملہ اسے مزید کمزور کر سکتا ہے یا اس کے خاتمے کی رفتار تیز کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض وقت کی بات ہے، ہمیں امید ہے یہ حملہ اس عمل کو تیز کر دے گا اور عوام آخر کار سڑکوں پر آسکیں گے اور اس جدوجہد کو حکومت کے حتمی زوال تک لے جائیں گے۔
’لوگ امید کر رہے ہیں کہ کسی موڑ پر یہ فیصلہ کر لیا جائے گا کہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور ان سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ امریکا مداخلت کرے اور وہ کرے جس کا وعدہ صدر ٹرمپ نے کیا تھا یعنی عوام کی پشت پناہی کرنا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فوجی مداخلت جانیں بچانے کا ایک طریقہ ہے۔
دوسری جانب، گزشتہ ماہ روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اندر رضا پہلوی کی عوامی مقبولیت کی سطح کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ اس بات کا جائزہ لینے کیلیے مذاکرات کر رہی ہے آیا کوئی جوہری معاہدہ طے پا سکتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکا خطے میں اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے عمان میں امریکی اور ایرانی سفارت کاروں کے درمیان بات چیت ہوئی اور آئندہ ہفتے مزید مذاکرات متوقع ہیں۔
ادھر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دو امریکی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ اگر صدر ٹرمپ نے حملے کا حکم دیا تو امریکی فوج ایران کے خلاف ہفتوں پر محیط طویل فوجی آپریشن کے امکان کیلیے تیاری کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔