امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ایک طویل اور مسلسل فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے، جس کی منصوبہ بندی پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دو امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ ممکنہ آپریشن میں نہ صرف ایران کے جوہری انفرااسٹرکچر بلکہ اس کی ریاستی اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق واشنگٹن کو توقع ہے کہ اس کارروائی کے جواب میں ایران کی جانب سے ردعمل سامنے آئے گا جس سے امریکی افواج اور پورے خطے کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کر رہا ہے اور ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز خطے کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ہزاروں اضافی فوجی، جنگی طیارے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ امریکا کے فوجی اڈے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیے میں پہلے سے موجود ہیں۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس جدید میزائل صلاحیت موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی ممکنہ جنگ سے خطے میں بڑے پیمانے پر تنازع کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اسی دوران ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پابندیاں ختم کیے جانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اوقات سخت مؤقف اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق صدر کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ قومی سلامتی کے مفاد میں مختلف تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران کے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی