ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام کی تبدیلی کا اشارہ، ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں بھیجنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر میں نظام کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کردیا۔
شمالی کیرولائنا کے فوجی اڈے فورٹ بریگ سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بہترین چیز ہو سکتی ہے، جبکہ جوہری معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ بھی دے دی۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
صدر ٹرمپ نے کہاکہ امریکا ایران کے ساتھ ڈیل چاہتا ہے اور توقع ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو یہ ایران کے لیے بہت برا ہوگا۔
امریکی صدر نے کہاکہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بہترین چیز ہوگی جو ہو سکتی ہے، ’وہ 47 سال سے صرف باتیں ہی کرتے آ رہے ہیں۔‘
انہوں نے واضح کیاکہ امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کا فیصلہ اسی تناظر میں کیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیاکہ دوسرا طیارہ بردار جہاز مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے اور اگر ایران نے جوہری معاہدہ نہ کیا تو امریکا کو اس بحری بیڑے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس بحری جہاز کی ایک فضائی تصویر بھی شیئر کی، جو بظاہر راستے میں ہے اور مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود دوسرے امریکی جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن میں شامل ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو کیریبین سمندر سے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں وہ پہلے سے موجود امریکی بیڑے میں شامل ہوگا۔ خطے میں پہلے ہی یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہمراہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز گزشتہ دو ہفتوں سے تعینات ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ اعلان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ادھر خلیجی عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو خفیہ ڈیڈ لائن دینے کا دعویٰ، امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات پہنچ گیا
امریکی انتظامیہ ایک جانب ایران پر یورینیم افزودگی روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، تو دوسری جانب مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ بھی دے رہی ہے۔ تاہم حالیہ بیانات اور عسکری نقل و حرکت سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طیارہ بردار بحری جہاز وی نیوز بردار بحری جہاز طیارہ بردار ڈونلڈ ٹرمپ کی تبدیلی انہوں نے ایران کے سکتی ہے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔