ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ تعینات کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو کیریبین سمندر سے مشرقِ وسطیٰ روانہ کیا جا رہا ہے، جہاں وہ پہلے سے موجود امریکی جنگی بیڑے میں شامل ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ شمالی کیرولائنا کے فوجی اڈے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ دوسرا طیارہ بردار جہاز بھیجا جا رہا ہے۔ اگر ایران نے جوہری معاہدہ نہ کیا تو ہمیں اس بحری بیڑے کی ضرورت پڑے گی۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو کیریبین سمندر سے مشرقِ وسطیٰ روانہ کیا جا رہا ہے، جہاں وہ پہلے سے موجود امریکی جنگی بیڑے میں شامل ہوگا۔
امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہمراہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز گذشتہ دو ہفتوں سے خطے میں تعینات ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ادھر خلیجی عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے سے خطے میں ایک اور بڑی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طیارہ بردار
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔