میزائل پروگرام ایران کی ریڈ لائن ہے، اس پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے: علی شمخانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران نے ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کے مذاکرات کو ناقابل قبول قرار دیدیا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے آیت اللہ خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام ریڈ لائن ہے اور اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔
علی شمخانی کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے کسی بھی مس کیلکولیشن کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
سینئر ایرانی رہنما نے کہا کہ مذاکرات حقیقت پسندی پر مبنی ہوں اور غیر ضروری مطالبات سے گریز کیا جائے تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔