یوکرین میں بجلی کی بگڑتی صورتحال: آئی اے ای اے نے جوہری خطرات بارے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
کیف (ویب ڈیسک) بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں بجلی کے نظام کی بگڑتی صورتحال کے باعث جوہری تحفظ کو خطرات لاحق ہیں
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے ) سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کے ایک کے سوا تمام ری ایکٹر یونٹس کو اپنی پیداوار کم کرنا پڑی جبکہ کئی بجلی کی ترسیل کی کئی لائنیں منقطع ہو گئیں۔
تمام یوکرینی جوہری بجلی گھروں نے اپنی نگرانی کی حدود میں متعدد ڈرونز اور ایک کروز میزائل کی موجودگی کی اطلاع دی جبکہ خمل نیتسکی جوہری بجلی گھر میں موجود آئی اے ای اے کی ٹیم نے بھی فوجی سرگرمیوں کی آوازیں سنیں۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ یوکرین میں اس نوعیت کے واقعات اب بہت عام ہوتے جا رہے ہیں اور ہر واقعہ ہمیں بگڑتی ہوئی بجلی کی صورتحال کے باعث جوہری تحفظ اور سلامتی کو درپیش ہمہ وقت خطرات کی یاد دلاتا ہے۔
انہوں نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ فوجی ضبط و تحمل کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جوہری حادثے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر فوجی سرگرمیوں کے باعث جوہری بجلی گھروں (این پی پیز) کی کارروائیاں متاثر ہوئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اے ای اے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔