ریاض ابوظبی کشیدگی سے امریکہ کے منصوبے درہم برہم ہو چکے ہیں، اسرائیلی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ یہ کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے منصوبوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ باہمی ہم آہنگی کے بجائے یہ اختلافات علاقائی تقسیم اور عدم استحکام کو جنم دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی صورتِ حال اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے عبری شعبے کے مطابق اسرائیلی روزنامہ معاریو نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے باہمی تعلقات پر اپنے تجزیے کے آغاز میں لکھا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں یمن، اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور خطے میں اثر و رسوخ کے دائرۂ کار پر جاری علاقائی کشمکش شامل ہیں۔
اس عبرانی میڈیا نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ ریاض اور ابوظبی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے منصوبوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ باہمی ہم آہنگی کے بجائے یہ اختلافات علاقائی تقسیم اور عدم استحکام کو جنم دے رہے ہیں۔ اس تجزیے کے اختتام پر اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات، اس اختلاف اور تناؤ کے اہم ستونوں میں سے ایک ہیں، اور امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہی عامل آئندہ مزید علاقائی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات کے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔