امریکی صدر ایران سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ آیت اللہ خامنہ ای سے ملنے کو بھی تیار ہیں، مارکو روبیو
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کل ہی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی درخواست کریں تو یہ ملاقات ہوسکتی ہے، اس لیے نہیں کہ ٹرمپ ان سے متفق ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسائل اسی طرح حل کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملاقات کی خواہش ظاہر کریں تو ٹرمپ ان سے ملنے کیلئے تیار ہوں گے۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ کسی سے بھی ملاقات کے لیے آمادہ ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک عالمی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
روبیو نے کہا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کل ہی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی درخواست کریں تو یہ ملاقات ہوسکتی ہے، اس لیے نہیں کہ ٹرمپ ان سے متفق ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسائل اسی طرح حل کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے فیصلے کو احتیاطی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے بڑا تنازع پیدا ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای اس لیے ہیں کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔