نیوکلیئر فیوژن کا عمل کرنے والے طالب علم نے گینیز ورلڈ ریکارڈ پر نظریں جما لیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ٹیکساس (ویب ڈیسک) امریکا کا ایک طالبِ علم 12 برس کی عمر میں نیوکلیئر فیوژن کا عمل کر کے گینیز ورلڈ ریکارڈ پر نظریں جما لیں۔
ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس کے طالبِ علم ایڈن مک ملن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے منصوبے پر آٹھ برس کی عمر میں کام شروع کر دیا تھا پہلے نمونے پروٹو ٹائپس بنانے سے پہلے دو برس تک انہوں نے صرف نیوکلیئر فزکس پڑھی۔
انہوں کا کہنا تھا کہ اس متعلق اپنی والدہ کو مطمئن کرنے کے لیے انہیں محنت کرنی پڑی، ان کی والدہ پوچھا کرتی تھیں کہ اس میں کیا غلط ہو سکتا ہے اور کیسے غلط ہو سکتا ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانے کا کہتی تھیں کہ کچھ گڑ بڑ نہیں ہوگی۔
بالآخر پروجیکٹ کی تکمیل نیوکلیئر فیوژن کا عمل ہونے کی صورت میں ہوئی۔
ایڈن نے ریکارڈ کے لیے گینیز ورلڈ ریکارڈز میں جلد شواہد جمع کرائیں گے۔ تاہم، اس وقت یہ ریکارڈ جیکسن اوسوالٹ کے پاس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔