ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مؤثر تدارک کرنا ہے۔
یہ اہم فیصلہ ہفتے کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سکیورٹی اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی اور ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شدت پسند تنظیم داعش کی پاکستان میں ممکنہ موجودگی اور اس کے نیٹ ورک سے متعلق خدشات پر بھی غور کیا گیا۔ سکیورٹی حکام نے ممکنہ خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے سلیپر سیلز کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دینے پر مشاورت کی گئی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرینڈ آپریشن کے دوران مشتبہ عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جائیں گی اور ایسے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مربوط اقدامات اٹھائے جائیں گے، تاکہ ملک میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اجلاس میں کے خلاف
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔