ڈھاکا: بنگلا دیش کے انتخابات میں تاریخی فتح کو طارق رحمان نے ان شہریوں کے نام کر دیا ہے جنہوں نے 2024 کی تحریک کے دوران جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں۔

جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے بھاری اکثریت حاصل کی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔ ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 59 فیصد رہا۔

طارق رحمان نے انتخابی نتائج کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ “یہ فتح بنگلا دیش اور جمہوریت کی ہے۔”

انہوں نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت کمزور معیشت، انتظامی چیلنجز اور قانون و انصاف کی بحالی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

طارق رحمان نے کہا کہ نئی حکومت کی اولین ترجیح معیشت کی بحالی، مالیاتی نظام کا استحکام اور مؤثر طرزِ حکمرانی کا قیام ہوگا۔ انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد میں متحد رہنے کی اپیل بھی کی۔

یاد رہے کہ حالیہ ریفرنڈم میں آئینی اصلاحات کی بھی منظوری دی گئی، جن میں وزیر اعظم کی مدت کی حد، پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا قیام اور عدلیہ کی آزادی کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل