پاکستان کے خلاف بھارتی ٹیم کی حکمتِ عملی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بھارتی ٹیم مینجمنٹ نے اہم میچ سے قبل پلیئنگ الیون میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ دے دیا ہے، ٹیم کمبی نیشن کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی اسپنر کھلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فاسٹ بالر ارشدیپ سنگھ کو ڈراپ کرکے اسپنر کلدیپ یادیو کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بیٹنگ لائن اپ میں بھی نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اوپنر ابھیشیک شرما مکمل فٹ قرار دے دیے گئے ہیں اور وہ وکٹ کیپر بیٹر ایشان کشن کے ساتھ اننگز کا آغاز کریں گے۔
ابھیشیک شرما کی واپسی کے بعد رنکو سنگھ کو ڈراپ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی اسکواڈ میں نوجوان بیٹر تلک ورما کو بھی شامل رکھا گیا ہے، جبکہ مڈل آرڈر میں تجربہ کار بلے باز سوریا کمار یادیو اور وکٹ کیپر بیٹر سنجو سیمسن بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
آل راؤنڈرز اور بالنگ اٹیک میں ہاردک پانڈیا، اکشر پٹیل، ورون چکرورتی اور فاسٹ بالنگ کے شعبے میں اہم ہتھیار جسپریت بمراہ کو شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں اتوار کو کولمبو میں ہونے والے پاک بھارت مقابلے کے لیے بھارتی ٹیم کی ممکنہ پلیئنگ الیون پر بحث جاری تھی۔
۔
بھارتی کپتان سوریا کمار یادو اور ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کو اہم میچ سے پہلے اسپن بالنگ کے شعبے میں کلدیپ یادو کی شمولیت سمیت کئی حوالوں سے چند سخت فیصلوں کا سامنا تھا۔ تاہم اب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپنر کلدیپ یادیو کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت نے اب تک گروپ مرحلے کے اپنے دونوں میچ جیت رکھے ہیں اور پاکستان بھی دو کامیابیوں کے ساتھ برابر کھڑا ہے۔ اس میچ کی فاتح ٹیم کے گروپ اے میں سرفہرست رہنے کے امکانات روشن ہوں گے، اسی لیے ٹیم کمبی نیشن کو حتمی شکل دینا انتظامیہ کے لیے اہم بن گیا ہے۔
بھارت کی متوقع پلیئنگ الیون میں ابھیشیک شرما، ایشان کشن (وکٹ کیپر)، تلک ورما، سوریا کمار یادو (کپتان)، ہاردک پانڈیا، شیوم دوبے، رنکو سنگھ، اکشر پٹیل، ورون چکرورتی، جسپریت بمراہ اور ارشدیپ سنگھ شامل ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی