سوکیش چندر شیکھر کا ویلنٹائن ڈے پر جیکولین فرنینڈس کو 30 کروڑ روپے مالیت کا لگژری ہیلی کاپٹر تحفہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
منی لانڈرنگ کیس میں قید بھارتی شہری سوکیش چندر شیکھر نے ویلنٹائن ڈے پر اداکارہ جیکولین فرنینڈس کو 30 کروڑ روپے مالیت کا لگژری ہیلی کاپٹر تحفے میں دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوکیش چندر شیکھر اس وقت 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں جیل میں قید ہیں تاہم انہوں نے جیل سے جیکولین فرنینڈس کو ایک محبت نامہ لکھا جس میں مہنگے تحفے کا ذکر کیا گیا۔ خط میں انہوں نے اداکارہ کو ’’بیبی بوما‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور اپنے مبینہ تعلق کا دوبارہ اظہار کیا۔
سوکیش نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جیکولین فرنینڈس کیلئے ایئربس ایچ سیریز کا ایک لگژری ہیلی کاپٹر خریدا ہے جس کی مالیت تقریباً 30 کروڑ روپے ہے، جبکہ اس ہیلی کاپٹر کو اداکارہ کے نام کے ابتدائی حروف "JF" کے ساتھ خصوصی طور پر ڈیزائن بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ قیمتی تحفہ ان کی ذاتی کمائی سے خریدا گیا ہے اور اس کا مقصد اداکارہ کو شوٹنگ کے لیے دور دراز مقامات تک آسان سفر کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
خط میں سوکیش نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جیل کی سلاخوں کے باعث وہ اداکارہ سے دور ہیں لیکن ان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحفہ ان کی محبت کی علامت ہے اور وہ ہر مشکل کے باوجود جیکولین کو یاد کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ سوکیش چندر شیکھر نے اداکارہ کو مہنگے تحائف دینے کا دعویٰ کیا ہو، اس سے قبل بھی وہ جیکولین فرنینڈس کو قیمتی تحائف اور جائیداد دینے کے دعوے کر چکے ہیں۔ تاہم اداکارہ کی جانب سے اس تازہ خط یا مبینہ تحفے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اداکارہ کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر سوکیش چندر شیکھر نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اسے 25 کروڑ روپے اور 50،000 میٹا شیئرز دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جیکولین فرنینڈس کو سوکیش چندر شیکھر ہیلی کاپٹر کروڑ روپے انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔