علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی پارلیمنٹ کے اندر بند، اہم پیغام جاری ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
علامہ ناصر عباس جعفری نے اُس وقت تک پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کا اعلان کیا تھا جب تک عمران خان کا کسی بڑے اسپتال علاج نہیں کرایا جاتا۔ اسد عمر، علامہ ناصر عباس اور دیگر اراکین نے پیغام جاری کیا ہے جو پیش خدمت ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ اپوزیشن اراکین اسمبلی گزشتہ رات سے وفاقی پولیس کی جانب سے مبحوس کردیئے گئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی بھی پارلیمنٹ کے اندر بند ہیں، پارلیمنٹ کا تالے لگا دیئے گئے ہیں، اس سے پہلے علامہ ناصر عباس جعفری نے اُس وقت تک پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کا اعلان کیا تھا جب تک عمران خان کا کسی بڑے اسپتال علاج نہیں کرایا جاتا، اسد عمر، علامہ ناصر عباس اور دیگر اراکین نے پیغام جاری کیا ہے جو پیش خدمت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ ناصر عباس اور پارلیمنٹ کے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔