کراچی: (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ نوجوان اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں اور انہیں آگے لانا حکومت کی ترجیح ہے۔

ہاکی اسٹیڈیم کراچی میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے آئی ٹی کورس میں داخلے کے لیے منعقدہ انٹری ٹیسٹ کے موقع پر امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آج نوجوانوں کو آئی ٹی کی معیاری تربیت دی جائے تو پاکستان بہت جلد ترقی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنانے پر کام جاری ہے جبکہ پاکستان کے کسی بھی شہر کے طلبہ کو یکساں سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اقدامات کی ہدایت کی ہے کیونکہ اب ہر شعبے کے لیے آئی ٹی نہایت اہم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے طلبہ مختلف شعبہ جات میں کلیدی کردار ادا کریں گے اور ان کا مستقبل روشن ہے۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ ہم سب مل کر عہد کریں گے کہ آئی ٹی انقلاب میں پاکستان دنیا کی قیادت کرے گا اور خاص طور پر خواتین کو اس شعبے میں آگے بڑھایا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی علی راشد نے کہا کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور جو خود کو اس کے مطابق تیار کرے گا وہی کامیاب ہوگا۔

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ وفاقی حکومت آئی ٹی کے طلبہ کے مستقبل کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دفاعی میدان میں بھارت کو شکست دی، اسی طرح آئی ٹی کے میدان میں بھی پاکستان کامیابی حاصل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام میں بھارت سے زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے۔

گورنر سندھ نے مزید کہا کہ معرکۂ حق کے بعد اب معرکۂ آئی ٹی اور معرکۂ معیشت میں بھی پاکستان بھارت سے آگے نکلے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ آئی ٹی کے میدان میں کامیابی کے لیے بچوں کو سخت محنت کرنا ہوگی اور ملک بھر میں آئی ٹی کا جال بچھایا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ دن دور نہیں جب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان عالمی سطح پر اپنا نمایاں مقام بنائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان