وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف
چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پچھلے سال رمضان میں مستحقین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رقم فراہم کی، پچھلے سال رقم 20 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، اس سال رمضان پیکج کے تحت 38 ارب روپے مقرر کیے ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں رقم شفاف نظام کے ذریعے رمضان ریلیف پیکج کی رقم تقسیم ہوگی، مستحقین کو فی خاندان 13 ہزار روپے دیے جائیں گے۔وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کے اجرا کی تقریب کے دوران سیکرٹری بی آئی ایس پی نے بریفنگ دیتے ہوئے شہباز شریف کو بتایا کہ اس سال رمضان پیکج کے تحت رقم 13 ہزار روپے کردی گئی ہے، پیکج کا مقصد مستحق افراد کو باعزت ریلیف فراہم کرنا ہے۔سیکریٹری بی آئی ایس پی نے بتایا کہ 2025 میں رمضان پیکج کے تحت مستحقین کو 5 ہزار روپے دیے گئے تھے، مستحق افراد کور قوم بینکوں کے ذریعے براہ راست فراہم کی جائیں گی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کا حجم 38 ارب روپے ہے، وزرا پر مستمل کمیٹی رمضان پیکج کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گی، وزیراعظم خود اس نظام کی نگرانی کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: رمضان ریلیف پیکج رمضان پیکج کے شہباز شریف
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔