سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کی کوشش، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے پیش قدمی روک دی ،لاٹھی چارج سے ایک کارکن، پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی،12 کارکن گرفتار، مسجد خضرا کے قریب مرکزی ٹرک قبضے میں لے کر تھانے منتقل کردیا
جماعت اسلامی کو پہلے ہی بتادیا تھا اسمبلی کے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، آج شام کے مذاکرات طے تھے، پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، ہمیں مجبوراً یہ اقدام اٹھانا پڑا،وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کی گفتگو
جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے پہلے ہی رکاوٹیں کھڑی کر کے پیش قدمی کو روک دیا۔پولیس کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اطراف کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کیے گئے تاہم شام کے وقت جماعت اسلامی کے کارکنان ریلی کی شکل میں آئے تو کورٹ روڈ کے قریب پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے بعد مرکزی ٹرک اور کارکنان نے پیش قدمی کی تو خضرا مسجد کے قریب پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ شروع کردی۔پولیس نے جماعت اسلامی کے مرکزی ٹرک کو قبضے جبکہ متعدد کارکنان کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ اور تشدد سے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ جماعت اسلامی کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ اسمبلی کے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، آج شام کے مذاکرات طے تھے۔انہوں نے کہا کہ پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے بعد ہمیں مجبوراً یہ اقدام اٹھانا پڑا، برخلاف قانون کسی کو جانیکی اجازت نہیں ہے۔ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہر گز نہیں، عوام سے اپیل ہے پرامن رہیں اور فساد پھیلانیوالوں کا آلہ کار نہ بنیں۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے قانون کی رٹ کو قائم رکھنا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسمبلی کے باہر نے کہا کہ پولیس نے کی اجازت
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی