خیبرپختونخوا حکومت نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس سے ایک ہی روز میں 47 کروڑ کمالیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے تحت گاڑیوں کے من پسند چوائس نمبر پلیٹس کے منفرد منصوبے کی دوسری نیلامی میں خواہشمند بولی دہندہ گان نے قومیتی اور علاقائی ناموں کے نمبروں پر کروڑوں روپے کی شاندار بولی لگا دی۔
ایک ہی روز میں 47 کروڑ اور 3 لاکھ روپے کی مجموعی بولی دی گئی جس میں کل 30 نمبرات شامل تھے۔
ارینا ہال،قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاور میں منعقدہ نیلامی میں سب سے زیادہ بولی "داوڑ 1" چوائس نمبر پلیٹ پر 17 کروڑ اور 50 لاکھ روپے دی گئی جسے انضمام الحق نامی شہری نے خریدا۔
دوسری بڑی بولی "اورکزئی 1" نمبر پلیٹ پر دی گئی جسے سابق سنیٹر اور ایم پی اے اورنگزیب خان نے 4 کروڑ اور 10 لاکھ روپے میں خریدا۔
"وزیرستان 1" نمبر پلیٹ 4 کروڑ اور 6 لاکھ روپے میں نیلام ہوا جسے فیض الرحمان نے خریدا جبکہ "مہمند 1" چوائس نمبر پلیٹ 3 کروڑ اور 21 لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔ نیلامی کی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم خان،دیگر ڈائریکٹرز اور محکمہ ایکسائز کے افسران نے شرکت کی۔
نیلامی میں "باجوڑ 1" نمبر پلیٹ 3 کروڑ اور 35 لاکھ روپے میں عباس شاہ نے خریدا جبکہ "خیبر 1" نمبر پلیٹ 2 کروڑ اور 1 لاکھ روپے میں نیلام ہوا جو حاجی اختیار محمد نے خریدا, "محسود 1" نمبر پلیٹ 2 کروڑ اور 20 لاکھ روپے میں عباس خان محسود نے حاصل کیا جبکہ "گجر 1" نمبر پلیٹ 1 کروڑ اور 63 لاکھ روپے میں رضا خان گجر نے خرید لیا۔
"پشتون 1" نمبر پلیٹ 1 کروڑ اور 32 لاکھ روپے میں امیر اللہ نامی شہری نے خریدا۔"بونیر 1" چوائس نمبر پلیٹ 95 لاکھ میں ملک اسد خان،"مردان 1" حافظ شیر رحمان نے 68 لاکھ اور "دیر 1" محمد طاہر خان نے 67 لاکھ میں خرید لیا۔"جدون 1" سمیع اللہ نے 71 لاکھ اور "خلیل 1" گل زیب نے 65 لاکھ میں خریدا۔ "خٹک 1" محمد فیضان نے 61 لاکھ روپے جبکہ "تاج 1" فیاض احمد خان نے 42 لاکھ روپے میں خرید لیا۔
"کوہاٹ 1" نمبر پلیٹ 43 لاکھ روپے، "شیخ 1" کا نمبر 27 لاکھ روپے، "سوات 1" نمبر پلیٹ 30 لاکھ روپے،"ایبٹ آباد 1" نمبر پلیٹ 17 لاکھ، "مروت 1" نمبر پلیٹ 26 لاکھ روپے اور "سید 1" نمبر پلیٹ 33 لاکھ میں فروخت ہوا جبکہ "کلاچی 1" نمبر پلیٹ پر 25 لاکھ روپے کی بولی لگی۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِجہان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چوائس نمبر پلیٹس کا یہ منصوبہ ایک منفرد اور عوام دوست اقدام ہے، جو الحمدللہ عوام کی بھرپور دلچسپی کے باعث کامیاب رہا۔
انہوں نے کامیاب بولی دہندگان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی درخواست اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں مزید من پسند چوائس نمبر پلیٹس کی بڈنگ کا انعقاد کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چوائس نمبر پلیٹ لاکھ روپے میں نمبر پلیٹس کروڑ اور لاکھ میں
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز