چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی آئی پی یو کی قیادت سے اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی آئی پی یو کی قیادت سے اہم ملاقاتیں WhatsAppFacebookTwitter 0 15 February, 2026 سب نیوز
نیویارک(آئی پی ایس ) چیئرمین سینیٹ ، سید یوسف رضا گیلانی نے نیویارک میں انٹر پارلیمانی یونین کی صدر ڈاکٹر ٹولیا ایکسن اور سیکرٹری جنرل مارٹن چونگونگ سے اہم الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کی فعال، باوقار اور موثر پارلیمانی سفارت کاری کو اجاگر کیا گیا۔ ملاقاتوں کے دوران چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے اصولی موقف، جمہوری عزم اور عالمی سطح پر فعال پارلیمانی کردار کو مدلل انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان آئی پی یو کو دنیا کی پارلیمانوں کے مابین مکالمے، قانون کی حکمرانی، جامع حکمرانی اور عالمی تعاون کے فروغ کا موثر ترین پلیٹ فارم سمجھتا ہے اور اس فورم پر پاکستان کا کردار ہمیشہ تعمیری اور مثبت رہا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے آئی پی یو کے ساتھ پاکستان کی مضبوط اور دیرینہ وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان مسلسل آئی پی یو اسمبلیوں، قائمہ کمیٹیوں اور عمومی مباحث میں فعال شرکت کر رہی ہے۔
انہوں نے تاشقند میں منعقدہ 150ویں آئی پی یو اسمبلی میں اپنی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور کثیرالجہتی تعاون جیسے اہم عالمی موضوعات پر واضح اور موثر مقف پیش کیا۔انہوں نے نومبر 2025 میں اسلام آباد میں منعقدہ انٹر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے کامیاب انعقاد کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس نے پاکستان کی پارلیمانی قیادت پر عالمی اعتماد کو مزید مستحکم کیا۔ “اسلام آباد اعلامیہ” کی متفقہ منظوری کو انہوں نے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا، جس میں امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا گیا۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے جمہوری حکمرانی کے فروغ میں سینیٹ آف پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایوان بالا صوبائی ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ، شفاف قانون سازی اور موثر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی عمل کے ذریعے عوام کی آواز کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کرنا ان کی قیادت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ایس ڈی جیز کو پارلیمانی ملکیت دینے میں اپنی قیادت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قانون سازی، بجٹ نگرانی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مزید تعاون کی خواہش ظاہر کی۔موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب اور بعد ازاں شدید موسمی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی انصاف اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے تحت ترقی پذیر ممالک کی معاونت کرے۔
خواتین کی سیاسی و معاشی شمولیت کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے آئینی اقدامات اور قانون سازی کو اجاگر کرتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو خواتین کے معاشی استحکام اور غربت کے خاتمے میں ایک مثر اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔عالمی امن اور انسانی حقوق پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔سیکرٹری جنرل آئی پی یو سے ملاقات میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ سیکرٹریٹ کے ادارہ جاتی کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ پیشہ ورانہ، مثر اور غیرجانبدار پارلیمانی سیکرٹریٹس پارلیمانی سفارت کاری کی کامیابی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی جدیدیت، ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت پر مبنی سہولیات، تحقیقی معاونت اور عملے کی تربیت کے شعبوں میں عملی تعاون کی تجاویز پیش کیں۔چیئرمین سینیٹ نے واضح کیا کہ ان کی قیادت میں سینیٹ آف پاکستان عالمی سطح پر فعال، ذمہ دار اور باوقار کردار ادا کرتی رہے گی اور کثیرالجہتی نظام کے استحکام، جمہوریت کے فروغ اور عوام دوست حکمرانی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔ملاقاتوں کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی پارلیمان اور آئی پی یو کے مابین تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی فعال قیادت کو عالمی پارلیمانی حلقوں میں سراہا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربنگلا دیش کی نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری، پاکستان کو بھی دعوت نامہ وصول بنگلا دیش کی نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری، پاکستان کو بھی دعوت نامہ وصول اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ ، دعوت کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی نمائندہ نہ پہنچا مستقبل کی وبائوں سے بچا وکیلئے ون ہیلتھ اپروچ ناگزیر ہے، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی سی ڈی اے ، ایم سی آئی کے زیر اہتمام گرین موبیلٹی کے فروغ کیلئے سائیکلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد عمران خان کیلئے الشفا آئی ٹرسٹ میں 10کمرے مختص، ڈاکٹرز کے نام بھی سامنے آگئے آئی ایم ایف مشن تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے 25فروری کو پاکستان کا دورہ کریگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ آئی پی یو کی قیادت سے اہم
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔