بی جے پی کا نیا ہتھیار "ایس آئی آر" ہے جس سے لوگوں کی شہریت چھین لی جائیگی، اسدالدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر ایسی کارروائی کی جا سکتی ہے جس کے تحت حقیقی بھارتی شہریوں، خصوصاً اقلیتوں اور دلتوں کے نام ووٹر فہرست سے خارج کئے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بی جے پی حکومت پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی ایس آئی آر (SIR) کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے ہوشیار رہنے اور ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی تصدیق یقینی بنانے کی اپیل کی۔ حیدرآباد میں پارٹی کے 68ویں یومِ تجدید کے موقع پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ بہار میں اس عمل کی تکمیل کے بعد اب اسے تلنگانہ اور مہاراشٹر میں بھی نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر ایسی کارروائی کی جا سکتی ہے جس کے تحت حقیقی بھارتی شہریوں، خصوصاً اقلیتوں اور دلتوں کے نام ووٹر فہرست سے خارج کئے جا سکتے ہیں، جس سے ان کی شہریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ جب ایس آئی آر کا عمل شروع ہو تو یہ یقینی بنائیں کہ تمام حقیقی نام ووٹر لسٹ میں شامل ہوں۔ بی جے پی ایس آئی آر کے ذریعے لوگوں کی شہریت چھیننا چاہتی ہے اور الیکشن کمیشن کے ذریعے ترامیم کرا کے ایسا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تلنگانہ کے انتخابی حکام کے مطابق ریاست میں ایس آئی آر عمل کے اعلان کا امکان رواں سال اپریل یا مئی میں ہے۔ اسدالدین اویسی نے الزام لگایا کہ اس طریقۂ کار کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شہری کا نام ووٹر فہرست سے ہٹا دیا جاتا ہے تو اس کے شہری حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو تاکید کی کہ متعلقہ افسران کی جانچ کے دوران مکمل تعاون کریں اور اپنے دستاویزات تیار رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔
جلسے کے دوران اسد الدین اویسی نے تلنگانہ کے میڈارام جتارا، جو ایک قبائلی مذہبی تہوار ہے، میں پیش آئے ایک واقعے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلم پاؤ روٹی فروش کے ساتھ کچھ یوٹیوبرز کی جانب سے بدسلوکی کی گئی اور اس کے کام کو "فوڈ جہاد" قرار دے کر ہنگامہ کھڑا کیا گیا۔ اسد الدین اویسی نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تلنگانہ پولیس سے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والی ایسی حرکتیں ناقابل قبول ہیں اور ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اویسی کے بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے، جبکہ بی جے پی کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مجموعی طور پر رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ایس آئی آر کے نفاذ کو لے کر خدشات ظاہر کرتے ہوئے عوام کو بیدار رہنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے مستعد رہنے کی تلقین کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسدالدین اویسی نے ایس ا ئی ا ر کے کرتے ہوئے نے کہا کہ کی شہریت انہوں نے نام ووٹر بی جے پی کے نام
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز