وفاقی حکومت نے گریڈ 20کے پولیس افسر کیپٹن (ر)ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
وفاقی حکومت نے گریڈ 20کے پولیس افسر کیپٹن (ر)ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی حکومت نے گریڈ 20کے پولیس افسر کیپٹن (ر)ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کردیا۔ ڈی آئی جی کیپٹن (ر)ملک لیاقت علی پنجاب پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔
وفاقی حکومت نے آئی جی پولیس آزاد کشمیر حکومت رانا عبدالجبار کی تبدیلی کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اس وقت نیشنل مینجمنٹ کورس میں مصروف ہیں۔ ان کی جگہ پنجاب حکومت میں تعینات سینئر پولیس افسر ڈی آئی جی کیپٹن (ر)ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا نیا آئی جی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، بھارت نے پاکستان کو جیت کیلئے 176رنز کا ہدف دیدیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، بھارت نے پاکستان کو جیت کیلئے 176رنز کا ہدف دیدیا موٹروے پولیس کی ایمانداری کی مثال، گمشدہ 53لاکھ تلاش کر کے مالک کے حوالے کر دیے گئے امریکی ناظم الامور امریکااور پاکستان تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے مصروف سزا ملنی ہے تو پھر سب کو برابر ملنی چاہیے،خواجہ سعد رفیق اکیسویں چولستان جیپ ریلی کا معرکہ خالد حمید نے سر کر لیا حکومت کا قانون سازی کیلئے پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت نے آئی جی تعینات پولیس افسر
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔