ایم کیوایم پاکستان میں رسہ کشی، پارٹی رہنما ادھر ہم ادھر تم ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
خالد مقبول نے لیاقت آباد میں مصطفی کمال کے عوامی اجتماع کو یکستر مسترد کردیا
ٹھیک اسی روز گورنرہائوس میں ایک تقریب سجالی،لندن گروپ بھی سرگرم ہوگیا
ایم کیو ایم پاکستان مکمل طور پر دو دھڑوں میں واضح طور تقسیم ہوگئی، ایم کیوایم پاکستان کے چیٔرمین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی گزشتہ روز گورنرہاوس سندھ میں ایک پروگرام میں شریک ہوئے جہاں گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری ، ڈاکٹرفاروق ستار سمیت دیگر پارٹی رہنماء اور ارکان اسمبلی موجود تھے جبکہ پارٹی کے سینئر رہنماء مصطفٰی کمال اورانیس قائمخانی نے لیاقت آباد پاور شو کیا جس پر ایم کیوایم پاکستان نے لیاقت آباد میں ہونے والے جلسے سے اعلان لاتعلقی کردیا ،ایم کیو ایم پاکستان کے چیٔرمین خالد مقبول صدیقی گورنر ہاؤس میں کراچی کے موضوع پر پروگرام میں شریک تو ہوئے مگر اس پروگرام میں پارٹی کے وفاقی وزیر مصطفی کمال اور انیس قائم خانی اور دیگر رہنماوں کو مدعو نہیں کیا گیا جبکہ ایم کیوایم پاکستان کیچیٔرمین خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور دیگر رہنماوں نے لیاقت اباد میں عوامی جلسے سے واضح طور پر لاتعلقی دکھاتے ہوئے جلسے کے حوالے سے کوئی بیان تک دینے سے گریز کیا ، پارٹی رہنماوں کے درمیان خلیج اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایم کیو ایم نے میڈیا کے بھی دو گروپ بنا دیٔے ہیں ، مصطفیٰ کمال نے لیاقت آباد جلسے میں اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ دکھایا جہاں پختون، سندھی اور اردو والے سبھی مکتبہ فکر کے لوگ موجود تھے دونوں پارٹی رہنماوں کو دیکھتے ہوئے لندن گروپ کے رہنماوں نے کراچی میں انٹری دیتے ہوئے عوامی اجتماعات میں نظر آنا شروع کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایم کیوایم پاکستان نے لیاقت ا باد ایم پاکستان خالد مقبول
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.