تحریک، دھرنا اور لانگ مارچ کیلئے تیار، قائدین کے حکم کے منتظر ہیں، کاظم میثم
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
سکردو میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کاظم میثم کا کہنا تھا کہ جو فسطائیت یہاں پر ہے اور جو تماشا پاکستان میں ہو رہا ہےاور جس طرح پارلیمنٹ کی تضحیک ہو رہی ہے، پاکستان جنگل کا منظر پیش کر رہا ہے متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے رہنما و سابق اپوزیشن لیڈر محمد کاظم میثم نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت جنگل کا قانون ہے۔ سکردو میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کاظم میثم کا کہنا تھا کہ جو فسطائیت یہاں پر ہے اور جو تماشا پاکستان میں ہو رہا ہےاور جس طرح پارلیمنٹ کی تضحیک ہو رہی ہے، اس سے پوری دنیا میں ملک کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور پاکستان جنگل کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس فسطائیت کیخلاف آواز بلند کرنے کیلئے پہلا اقدام پریس کانفرنس ہے، اس کے بعد قائدین کے اعلان کے مطابق آگے بڑھیں گے۔ اگر احتجاجی تحریک کی ضرورت پڑی، دھرنا یا لانگ مارچ کرنا پڑا اور جو بھی اعلان مرکزی قائدین کرینگے اس پر عمل ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔