پاکستان نے 70 کروڑ ڈالرز کا چینی قرض واپس کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)پاکستان نے اس ہفتے چین کے کمرشل قرض کی مد میں 70کروڑڈالرز واپس کر دیے ہیں،جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائرکم ہوکر 15.5 ارب ڈالررہ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ رقم چائنا ڈیولپمنٹ بینک کو ادا کی گئی،جس نے اس سے قبل اسی قرض کو تین برس کیلیے رول اوورکیا تھا۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اور ایک ارب ڈالرکاسی ڈی بی قرض جون میں میچورہو رہاہے، جسے حکومت مالی سال کے اختتام سے قبل ری فنانس کرانے کی امید میں قبل از وقت واپس کرنے پر غورکر رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آئی ایم ایف کامشن 25 فروری سے 11مارچ تک پاکستان کادورہ کریگا،مشن توسیعی فنڈسہولت کے تحت ایک ارب ڈالرزکی قسط اور 20کروڑ ڈالرزسے زائدکی موسمیاتی فنانسنگ کی منظوری کیلیے جائزہ مذاکرات کریگا۔آئی ایم ایف ٹیم ابتدائی تین روزکراچی میں قیام کے بعد 2 مارچ سے وفاقی حکومت کے ساتھ باضابطہ بات چیت شروع کریگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔