کراچی، سانحہ ترلائی کیخلاف اور امام خامنہ ای سے اظہارِ یکجہتی کیلئے عظیم الشان ریلی کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
مقررین نے کہا کہ رہبرِ انقلاب اسلامی کے خلاف امریکی صدر کی دھمکیاں قابلِ مذمت ہیں، آیت اللہ خامنہ ای عالمِ اسلام کی وحدت کی علامت ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی خطے کے امن کیلئے سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سانحہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد کے خلاف اور رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے اظہارِ یکجہتی کیلئے کراچی میں ملتِ جعفریہ کی جانب سے ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی نمائش چورنگی سے سی بریز، ایم اے جناح روڈ تک نکالی گئی، جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ ریلی سے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ نثار قلندری، صدر آئی ایس او کراچی ریجن سید عون رضوی، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اسداللہ بھٹو، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا عقیل انجم قادری سمیت مختلف مسالک کے علماء کرام اور اقلیتی برادری کے نمائندگان نے خطاب کیا۔ ہندو برادری سے منہوج چوہان اور مسیحی برادری سے پاسٹر رحمت لعل نے بھی سانحہ ترلائی پر اظہارِ افسوس اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ملوث عناصر اور سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں۔
مقررین نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ مقررین نے کہا کہ رہبرِ انقلاب اسلامی کے خلاف امریکی صدر کی دھمکیاں قابلِ مذمت ہیں، آیت اللہ خامنہ ای عالمِ اسلام کی وحدت کی علامت ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی خطے کے امن کیلئے سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان برادر اسلامی ممالک ہیں، جن کے مابین تاریخی، مذہبی اور تزویراتی روابط موجود ہیں، لہٰذا ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو خطے کے امن کے خلاف اقدام تصور کیا جائے گا۔ مقررین نے کہا کہ عالمی طاقتیں خطے میں عدم استحکام کو فروغ دے رہی ہیں اور پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک ہیں اور ان کے خلاف سازشیں خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔
مقررین نے کہا کہ اسلام آباد میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے پسِ پشت عناصر کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہے اور اس حوالے سے قومی سطح پر اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان مزید عدم استحکام اور دہشت گردی کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ غزہ بورڈ آف پیس کے حوالے سے مقررین نے کہا کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دینی چاہیے۔ انہوں نے فلسطینی عوام اور مزاحمتی تنظیموں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ملکی پالیسی ساز ادارے موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ ریلی کے شرکاء نے سانحہ ترلائی کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ ریلی کا اختتام دعا اور امن و استحکام کی اپیل کے ساتھ ہوا۔ آخر میں امریکا، اسرائیل اور بھارت کے پرچم نذر آتش کئے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقررین نے کہا کہ خامنہ ای کے مرکزی انہوں نے کے خلاف ہیں اور
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔