Express News:
2026-06-02@22:04:45 GMT

امریکا ، بھارت تعلقات کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

بھارت اور امریکا کے درمیان شدید تناؤ ، سخت بیانات اور بھاری محصولات کے بعد آخر کار ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق یہ معاہدہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے مہینوں کی خاموش سفارتکاری، پردے کے پیچھے پیغامات اور اسٹریٹیجک صبر کارفرما تھا۔ مودی کی گزشتہ ستمبر میں چین میں روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے فوراً بعد قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو واشنگٹن میں بھیجا گیا تاکہ امریکا سے بگڑتے تعلقات کو سنبھالا جا سکے۔

اجیت دوول نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں واضح پیغام دیا کہ بھارت ، امریکا کے ساتھ تلخی ختم کر کے دوبارہ تجارتی معاہدے پر بات چیت چاہتا ہے۔ دونوں کی اس خفیہ ملاقات کے کچھ ہی عرصہ بعد تعلقات میں نرمی کے آثار نظر آنے لگے۔

گذشتہ سال 16 ستمبر کو صدر ٹرمپ نے مودی کو ان کی سالگرہ پر فون کیا اور ان کی تعریف کی۔ گذشتہ سال کے اختتام تک دونوں رہنماؤں کے درمیان مزید چار ٹیلی فونک رابطے ہوئے۔ جس کے دوران محصولات کم کرنے کے معاہدے کی طرف پیش رفت ہوئی۔ بھارتی وزارت خارجہ نے باضابطہ بریفنگ میں ملاقات کی تردید کی جب کہ امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ سفارتی روایت کے مطابق نجی ملاقاتوں کی تفصیل ظاہر نہیں کی جاتی ۔ بالآخر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی اچانک بھارت نواز حکمت عملی ، بیک ڈور امریکا بھارت طویل مذاکرات ، اسرائیل کی حمایت اور مشرق وسطی کے مستقبل کا جغرافیہ۔ نایاب معدنیات پر واشنگٹن میں کانفرنس۔ بھارت بھی وہاں موجود لیکن پاکستان کی عدم شرکت۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ تک بھارت سے کشیدہ تعلقات ، امریکی ٹیرف کی بھارتی مصنوعات پر بھاری شرح اور پاکستان کی جانب واضح جھکاؤ اور تعریفی بیانات کے بعد اچانک بھارت کو رعایت ۔ ٹیرف 18 فیصد ، اس کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر اعظم کو گریٹ مین قرار دینے کا صدر ٹرمپ کا رویہ محض بیانات تک محدود نہیں ۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ اور امریکی وزیر مالیات سمیت متعدد امریکی اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتوں اور مذاکرات میں مصروف رہے اور نایاب معدنیات کے بارے میں کانفرنس میں بھی شریک ہوئے۔ بعض با خبر امریکی حلقوں کے مطابق بھارت اور امریکا کے درمیان مشرق وسطی، جنوبی ایشیاء اور مشرق بعید کی صورت حال کے تناظر میں خاموش اور بیک ڈور مذاکرات میں ’’کافی‘‘ کچھ انڈر اسٹینڈنگ طے پانے کے بعد بھارت کے لیے ٹیرف میں مثالی کمی اور بھارت کے بارے میں مثبت رویہ کی راہ اپنائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ ’’ایران اور مشرق وسطی کی صورتحال سے اسرائیلی انداز میں نمٹنے کے لیے اسرائیل کو بھارت کے تعاون کی بھی ضرورت ہے‘‘۔

پہل گام حملے کا بینفشری کون؟ جو سوال میںنے گذشتہ سال کے شروع میں اٹھایا تھا، آج تک اس کا جواب نہ مل سکا۔ یاد رہے کہ پہل گام حملے کے نتیجے میں ہی بھارت ، پاکستان جنگ ہوئی۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکا ، بھارت کو اپنے ڈھب پر لے آیا ہے۔

امریکا نے مشرق وسطی میں ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن معرکہ سر کرنا ہے۔ جس میں خدانخواستہ کامیابی کے بعد پوری دنیا امریکا کے سامنے سجدہ ریز ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ داعش کو جن ملکوں نے مل کر بنایا ، ان میں امریکا ، برطانیہ ، جرمنی اور فرانس بھی شامل ہیں۔ کیا کسی نے اس حقیقت پر غور کیا کہ افغان طالبان ہوں ، ٹی ٹی پی ہو، داعش خراسان ہو، القاعدہ ہو یا بی ایل اے ہو، انھوں نے اسرائیل کے خلاف جہاد کرنے کے بجائے ہمیشہ افغانستان اور پاکستان کے مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کے سامنے فلسطینیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، انھوں نے غزہ میں حماس کا کبھی ساتھ نہیں دیا ہے۔ یہ ہے ان کا فہم اسلام۔

اس حوالے سے فروری ، مارچ، اپریل ، مئی انتہائی اہم اور احتیاط طلب مہینے ہیں۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ جس کا آغاز 15 فروری کے بعد اور 20 فروری سے بھی ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا کے بھارت کے کے بعد

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان