کراچی کے ٹیکس کا کم از کم آدھا حصہ شہرقائد کو دیا جائے،گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(پ ر)گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل پہلے فیز میں 10 ہزار مستحق افراد میں راشن ،روزگار کے ذرائع ،طبی آلات اوردیگر امدادی سامان کی تقسیم قابل ستائش ہے،دعا ہے کہ آج راشن وصول کرنے والے اگلے سال خود مستحقین میں راشن تقسیم کرنے کے قابل بن جائیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ آج کی تقریب خوشی کا نہیں بلکہ شرمندگی کا دن ہے، کیونکہ جو کام حکومت کو کرنا چاہیے وہ کام سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ بشیر فاروقی اور ان کی ٹیم انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بشیر فاروقی کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ دنیا بھر میں سیلانی کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی سے وصول کیے جانے والے ٹیکس کا کم از کم آدھا حصہ کراچی کو دیا جائے تاکہ شہر کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ایم اے جناح روڈ پر واقع جناح ہال میں دس ہزار مستحقین میں راشن کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے وفاقی وزیرتعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، سیلانی کے بانی مولانا بشیر فاروقی ، سیلانی ایجوکیشن بورڈ کے سربراہ افضل چامڑیہ ،سی او او سیلانی محمد غزال نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار ،سیلانی کے ٹرسٹی اور شعبہ ویلفیئر کے سربراہ عارف لاکھانی ،سید ابو فیصل بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔