سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب پانچ فیکٹر یاں سر بمہر کر دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ضلع کیماڑی میں اتوار کو فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر پانچ فیکٹر یاں سیل کردی گئی ہیں سیل کی جائے والی فیکٹریوں میں ثنا سفیناز فیکٹری کے دو یونٹس کو کا کولا اسٹوریج گودام الرحمان ٹوبیکو ٹریڈرز اور سی میکس میرین فیکٹری شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کیماڑی امیر فضل اویسی نے کارروائیوں کی رپورٹ کمشنر کراچی کو پیش کردی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فائر سیفٹی قوانین کے نفاز کو یقینی بنانے کے لئے صنعتی اداروں اور فیکٹریوں میں سیفٹی آڈٹ سروے کا کام جاری ہے اتوار کو سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کر کے پانچ صنعتی یونٹس سیل کر دئے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیماڑی نے کہا ہے کہ ضلع میں صنعتی اداروں اور فیکٹریوں اور کمرشل عمارتوں میں سیفٹی قوانین کو سختی سے نافذ کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فیکٹریوں کا فائر سیفٹی آڈٹ سروے کریں اور سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کریں۔ کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو سیفٹی قوانین کے سختی سے نفاذ کو یقینی بنانے کی ہدایت ہے۔ انھوں نے کہا ہے فائر سیفٹی آڈٹ سروے کا کام جلد جلد مکمل کر لیں ۔ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر سول لائن احمد مرتضی نے سول لائن سب ڈویژن میں تجاوزات کا مرتکب ہو نے پر مزید 6 ہوٹلز سیل کر دیے ہیں۔ سیل کئے جانے والے ہوٹلز میں دعا چورنگی کے نزدیک قائم دعا ہوٹل اسپیشل سلاطین مٹکا، شنواری ، خیبر اور وطن شامل ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے تنبیہ۔کی ہے کہ تمام ہوٹلز روڈ سائیڈ تجاوزات سیگریز اور ہوٹلوں کے لئے مقررہ قواعد و ضوابط پر عمل کریں بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی سخت کی جا سکتی ہے اور جر مانہ اور گرفتاری بھی کی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی ڈپٹی کمشنر فائر سیفٹی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔