بنگلا دیش: انتخابات کے بعد سیاسی صف بندی، شفیق الرحمن اور طارق رحمان کی اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-01-14
ڈھاکا (صباح نیوز/ مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلا دیش میں عام انتخابات کے فوری بعد سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے چیئرمین طارق رحمان نے اتوار کی شام امیرِ جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ان کے وسندھرا میں واقع دفتر میں ایک اہم اور خیر سگالی ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں نئی حکومت کی تشکیل اور سیاسی استحکام کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ ملاقات کے دوران طارق رحمان کے ہمراہ بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور مستقل کمیٹی کے رکن نذر الاسلام خان بھی موجود تھے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر اور ایڈووکیٹ احسان المحبوب زبیر نے وفد کی نمائندگی کی۔ ذرائع کے مطابق، دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان بات چیت انتہائی خوشگوار اور ہم آہنگ ماحول میں ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ جیسے حساس امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس ملاقات کو بنگلا دیش کی مستقبل کی سیاست میں ایک “گرینڈ الائنس” یا مضبوط پارلیمانی تعاون کے پیش خیمہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی انتشار سے نکالنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔ ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان یہ قربت بنگلا دیش میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جو ملک میں دیرپا امن اور ترقی کی ضمانت بنے گی۔
ڈھاکا:بی این پی کے چیئرمین طارق رحمن بشندھرا میںامیر جماعت اسلامی بنگلادیش ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ملاقا ت کررہے ہیں، ان سیٹ میں 11جماعتی اتحاد کے قائدین مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔