data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260216-01-14
ڈھاکا (صباح نیوز/ مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلا دیش میں عام انتخابات کے فوری بعد سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے چیئرمین طارق رحمان نے اتوار کی شام امیرِ جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ان کے وسندھرا میں واقع دفتر میں ایک اہم اور خیر سگالی ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں نئی حکومت کی تشکیل اور سیاسی استحکام کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ ملاقات کے دوران طارق رحمان کے ہمراہ بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور مستقل کمیٹی کے رکن نذر الاسلام خان بھی موجود تھے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر اور ایڈووکیٹ احسان المحبوب زبیر نے وفد کی نمائندگی کی۔ ذرائع کے مطابق، دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان بات چیت انتہائی خوشگوار اور ہم آہنگ ماحول میں ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ جیسے حساس امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس ملاقات کو بنگلا دیش کی مستقبل کی سیاست میں ایک “گرینڈ الائنس” یا مضبوط پارلیمانی تعاون کے پیش خیمہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی انتشار سے نکالنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔ ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان یہ قربت بنگلا دیش میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جو ملک میں دیرپا امن اور ترقی کی ضمانت بنے گی۔

ڈھاکا:بی این پی کے چیئرمین طارق رحمن بشندھرا میںامیر جماعت اسلامی بنگلادیش ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ملاقا ت کررہے ہیں، ان سیٹ میں 11جماعتی اتحاد کے قائدین مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے