غزہ :صہیونی بمباری سے 12 فلسطینی شہید ،اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے ‘ حماس
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن /غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے غزہ میں بمباری کرکے12 فلسطینیوں کو شہید کردیا اور حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عاید کیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق غزہ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیل نے بے گھر فلسطینیوں کے ایک کیمپ پر بمباری کی جہاں 4 افراد شہید ہوئے، دوسرا حملہ خان یونس میں کیا اور 5 افراد شہید ہوئے، اسی طرح ایک فلسطینی کو غزہ کے شمالی علاقے میں شہید کیا گیا۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ اسرائیل نے بے گھر فلسطینیوں کے قتل کا عام کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے اور یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے قبل جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ہدف پر تھی جو عالمی قانون کے مطابق تھی۔اسرائیلی کابینہ نے مغربی کنارے کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی متنازع تجویز منظور کر لی۔ اس متنازع تجویز کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی وسیع اراضی کو ریاستی ملکیت میں رجسٹر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو 1967ء کی جنگ کے بعد پہلی بار اسرائیل کا بڑے پیمانے پر زمینوں کی رجسٹریشن شروع کرنے کا اعلان ہے۔ اقدام کا مقصد فلسطینیوں کی زمینیں چھین کر غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کے لیے قانونی راستہ ہموار کرنا ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے انتہائی دائیں بازو کے وزرا بیزلیل اسموٹریچ اور یاریو لیون کی پیش کردہ تجویز منظور کی ہے۔ 11 سالہ ننھے فلسطینی بچے محمود فواد ابو علیا نے چند روز قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج کی یلغار کے دوران اپنی گرفتاری اور اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کی ہیں۔محمود نے بتایا کہ وہ اپنی روزمرہ کی ضرورت کی اشیا خریدنے کے لیے ایک دکان کے اندر موجود تھا جب اسرائیلی درندوں نے وہاں دھاوا بولا اور اسے گرفتار کر لیا۔ ننھے محمود کے بقول پانچ مسلح فوجی دکان میں داخل ہوئے، مجھے گھسیٹتے ہوئے فوجی جیپ تک لے گئے اور میرے چہرے اور پورے جسم پر وحشیانہ ضربات لگانا شروع کر دیں۔ الجزیرہ لائیو کو دیے گئے اپنے بیان میں اس معصوم بچے نے وضاحت کی کہ اسے فوجی گاڑی میں منتقلی کے دوران بدترین سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا ۔غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ20 ہزار سے زاید مریض اور زخمی بیرون ملک علاج کے لیے سفر کے منتظر ہیں، وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ رفح کراسنگ کا جزوی طور پر کھولا جانا انسانی المیہ ہے۔ وزارت صحت نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کو درپیش تباہ کن صحت اور انسانی صورتحال کے پیش نظر رفح بری کراسنگ کی مسلسل بندش اور اسے جزوی و مقید طور پر چلانے کے عمل کو شدید تشویش اور عدم اطمینان کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ ان مریضوں میں کینسر، امراض قلب، گردوں کے فیل ہونے اور شدید زخموں والے ایسے تشویشناک کیسز شامل ہیں جنہیں فوری طور پر ایڈوانس سرجری کی ضرورت ہے، جو کہ حصار اور نظام صحت کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے باعث غزہ کی پٹی کے اندر دستیاب نہیں ہے۔مقبوضہ مغربی کنارے میں طولکرم کے شمال میں نسلی دیوار فاصل کے قریب اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان زخمی ہوگیا جبکہ مغربی کنارے کے متعدد علاقوں میں قابض فوج نے جارحانہ چھاپوں، گرفتاریوں اور سخت فوجی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جس میں متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس کے رکن ممالک جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں غزہ میں تعمیرِ نو اور انسانی امداد کے لیے 5 ارب ڈالر سے زاید کے وعدے کا اعلان کریں گے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ رکن ممالک نے اقوامِ متحدہ کی منظوری سے قائم کی جانے والے اسٹیبلائزیشن فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا بھی عزم کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جمعرات کو ہونے والا اجلاس اس گروپ کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوگا جو ڈونلڈ ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہوگا، اجلاس میں 20 سے زاید ممالک کے وفود شرکت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔