Express News:
2026-06-02@23:13:44 GMT

غزہ فورس سے متعلق ٹرمپ کے ا علان پر پاکستان کی خاموشی

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

اسلام آباد:

غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی  استحکام  فورس (آئی ایس ایف) میں پاکستانی دستوں کی شمولیت کے حوالے سے پاکستان نے تاحال اپنے پتے ظاہر نہیں کیے۔

دوسری طرف  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ ان کے نو تشکیل شدہ  ’’  بورڈ آف پیس ‘‘  کے رکن ملکوں نے اپنی پہلی سربراہی ملاقات سے قبل ہی ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

’’  بورڈ آف پیس ‘‘  کا پہلا باقاعدہ اجلاس منگل 19 فروری کو واشنگٹن میں ہوگا جہاں توقع ہے کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے کی تفصیلات اور فلسطینی علاقے کے لیے اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ استحکام فورس کے ڈھانچے کی وضاحت کریں گے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی اس سربراہی اجلاس میں شرکت کرینگے۔

تاہم اسلام آباد میں حکام اس سوال پر خاموش ہیں کہ آیا پاکستان نے اس بین الاقوامی فورس کے حصے کے طور پر اپنے فوجی دستے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے یا نہیں۔

سکیورٹی اور دفترِ خارجہ کے ذرائع نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کے عزم کی تصدیق یا تردید سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ فی الوقت زیرِ بحث اور حساس نوعیت کا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدیدار نے بتایا کہ ابھی تک کوئی بھی فیصلہ عوامی سطح پر سامنے نہیں لایا گیا۔ 

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ ہفتے کے روز میونخ سکیورٹی ڈائیلاگ کے موقع پر  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان گفتگو میں بھی زیرِ غور آیا۔

کسی بھی فریق نے اس گفتگو کی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ استحکام فورس اور اس کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان ’’ بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہوگیا ہے۔ تاہم اسلام آباد نے عوامی سطح پر کسی بھی فورس میں اپنی شرکت کو ایک واضح اور محدود مینڈیٹ سے مشروط کر رکھا ہے۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان غزہ فورس میں اسی صورت شامل ہوگا جب اس کا کردار محض امن عامہ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر استحکام تک محدود ہو اور اس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا یا کسی دوسرے فلسطینی گروہ کو نشانہ بنانا نہ ہو۔

امریکی حکام کے مطابق اس اجلاس میں ترکیہ، مصر، سعودی عرب، قطر اور انڈونیشیا سمیت 20 سے زائد ممالک کے وفود شرکت کریں گے۔

فی الحال اسلام آباد اپنی پوزیشن واضح کرنے سے پہلے اس فورس کے دائرہ اختیار اور طریقہ کار پر مزید وضاحت کا منتظر نظر آتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار