Jasarat News:
2026-06-02@22:24:34 GMT

باورچی خانہ ترتیب دیں

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کچن کو مرتب کرنے کے لئے ذیل میں چند آسان طریقے بتائے جا رہے ہیں تاکہ آپ سہولت سے کام بھی کر سکیں اور اسے مکمل طور پر منظم رکھ کر داد بھی پا سکیں۔ 1۔ سب سے پہلے کچن سے تمام غیر ضروری اشیاء باہر نکال دیں۔جیسے ایمرجنسی لائٹس، پرانی اور قابل مرمت کوکنگ مشینری، زائد صفائی کے محلول اور پاؤڈر وغیرہ اگر اشیاء خوردنوش کے لئے بھی آپ کے پاس علیحدہ اسٹور ہے اور فریج میں اضافی جگہ ہے تو آپ زائد گروسری کچن میں نہ رکھیں۔ 2۔ اپنے کچن کو زیادہ سے زیادہ صاف رکھنے کی عادت ڈالیں۔ہر کوکنگ کے بعد برتن دھونا، شیلف اور چولہا صاف کرنا عادت بنا لیں۔فرش پر ٹاکی یعنی پونچھا پھیرنا بھی نہ بھولیں۔کچن میں چار سے زائد صافیاں نہ رکھیں۔آپ کا کچن جتنا زیادہ صاف ہو گا وہ اتنا ہی منظم اور سمٹا ہوا لگے گا۔صفائی کو باقاعدہ رکھنے کے لئے کچن کی ہفتہ وار صفائی کی روٹین بنائیں اور سختی سے عمل پیرا ہوں۔ 3۔ چیزوں کو مربوط کریں۔جیسے چولہے کے کاؤنٹر کی ایک سائیڈ پر کٹنگ، چوپنگ بورڈ رکھیں اور دوسری جانب سنک لگوائیں۔ڈیزائنرز کچن میں چند کیبنٹس میں زیادہ سے زیادہ سہولتیں یکجا کر دی جاتی ہیں۔اسی طرح روزمرہ استعمال کے مصالحہ جات قریب ترین اور نچلی کیبنٹ میں رکھیں لیکن خیال رہے کہ مصالحہ جات چولہے سے قریب نہ ہوں وگرنہ گرمی کی حدت کے باعث خراب ہو سکتے ہیں۔ 4۔ کچن کے لئے چھوٹا اور باآسانی حرکت دینے والا سامان استعمال کریں۔ جیسے اسٹینڈ، کرسیاں اور میز وغیرہ۔اچھا ہو گا کہ آپ جراثیم سے بچنے کے لئے کچن اسفنج کو جلدی جلدی تبدیل کر لیں۔ 5۔ کچن میں ایک نوٹس بورڈ ضرور آویزاں کریں اور اس میں اپنا مینو پلان، شاپنگ لسٹ اور دیگر ضروری چیزیں لکھتی رہیں کیونکہ کچن میں دن میں ہر فرد کئی بار جاتا ہے ایسے میں اکثر بھول جانے والی چیزیں یاد رکھنا آسان ہو جاتی ہیں۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کچن میں کے لئے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار